جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کامیاب وہی ہے جو اس دی ہوئی فرصت کو قیمتی بنا کر جاوداں بنائے اور آنے والوں کے لیے کوئی خیر باقی چھوڑ جائے۔ حضرت علامہ حاجی عبدالغنی رحمہ اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں مختلف النوع خدمات انجام دیں، جو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ آپ کی باقیاتِ صالحات میں ہزاروں تلامذہ، ایک بڑی اسلامی درسگاہ، اور آپ کے ہونہار فرزند حضرت مولانا حافظ محمد یوسف بھی شامل ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ نے مختلف النوع استعدادوں سے نوازا ہے۔ حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ علیہ کی گوناگوں خدمات کو جس انداز میں آپ نے سنبھالا اور کندھا دے کر آگے بڑھایا، وہ یقیناً قابلِ تعریف ہے۔
جامعہ کے اہتمام، دارالافتاء میں مسائل کی ذمہ داری، علاقائی مسائل اور رنجشوں کی صلح کروانا، جمعیت علماء اسلام کی مجلس شوریٰ کے رکن ہونا، درس و تدریس اور حضرت حاجی صاحب رحمہ اللہ علیہ کے علاقائی روابط سنبھالنا یہ سب آپ کی خدمات میں شامل ہیں۔
حافظ صاحب کی پیدائش 1970ء میں محلہ جامع مسجد ابوذر غفاری، چمن ضلع قلعہ عبداللہ میں ہوئی۔ گھر میں علم کا چراغ روشن ہونے کے باعث آپ نے ابتدائی تعلیم فارسیات، صرف و نحو اپنے والد و مربی حضرت علامہ رحمہ اللہ علیہ سے حاصل کی۔ بعد ازاں 1986ء میں قاری ممتاز احمد سرحدی سے جامع مسجد بجلی گھر چمن میں حفظِ قرآن کیا، اور تکمیل قاری شیر علی مرحوم کے مدرسہ قاسم العلوم زڑہ بند قلعہ عبداللہ میں ہوئی۔ حفظ کے بعد آپ کی علمی استعداد مزید نکھری۔
دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کا بھی شوق رکھتے تھے۔ میٹرک تک تعلیم گورنمنٹ ہائی اسکول چمن سے حاصل کی۔ میٹرک کے بعد 1988ء میں دینی تعلیم کے لیے مدرسہ تعلیم الاسلام، سراب گوٹھ گلشن عمیر 6، کراچی کا رخ کیا۔ وہاں ثانیہ اور راجہ کی تعلیم حاصل کی۔ 1989ء میں مدرسہ بحر العلوم، سریاب روڈ کوئٹہ میں ثالثہ کی تعلیم حاصل کی۔ 1993ء میں خامسہ کی تعلیم منبع العلوم، میران شاہ میں، جبکہ سادسہ اور تکمیلِ فنون 1994ء اور 1995ء میں مدرسہ مظہر العلوم، شالدرہ روڈ کوئٹہ سے مکمل کی۔
موقوف علیہ کے اسباق حضرت مولانا قاضی حمیداللہ جان رحمہ اللہ علیہ سے 1996ء میں مظاہر العلوم، گوجرانوالہ میں پڑھے۔ دورہ حدیث 1997ء میں دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک، صوبہ خیبرپختونخوا میں مکمل کیا۔ آپ کے اساتذہ میں شیخ الحدیث مفتی محمد فرید، مولانا انوار الحق، اور حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ رحمہ اللہ علیہ شامل ہیں۔ حدیث کی سند میں حضرت قاضی حمیداللہ جان رحمہ اللہ علیہ اور آپ کے والد محترم حضرت علامہ حاجی عبدالغنی بھی شامل ہیں۔ تفسیر بھی حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ سے پڑھی۔ “تخصص فی اللغة العربیہ” جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ کے اساتذہ سے کوئٹہ میں مکمل کیا۔
1998ء میں جامع مسجد ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے درس و تدریس کا آغاز کیا۔ 2000ء سے جامعہ اسلامیہ علامہ ٹاؤن چمن میں ہدایۃ النحو اور شرح الوقایہ سے درس دینا شروع کیا اور ساتھ ہی جامعہ کی انتظامی ذمہ داریاں بھی سنبھالیں۔ 2008ء میں اسلامی جریدہ “ھوالہدیٰ” حضرت حاجی صاحب کی زیرِ سرپرستی شروع ہوا تو مدیرِ اعلیٰ کی ذمہ داری آپ کو سونپی گئی۔ 2011ء تک موقوف علیہ سمیت اکثر کتب کا درس جاری رہا، اور 2011ء سے دورہ حدیث کی کتب بھی پڑھانا شروع کیں، جو الحمدللہ تاحال جاری ہیں۔
2011ء میں حضرت علامہ رحمہ اللہ علیہ کی شہادت جہاں ہزاروں تلامذہ و معتقدین کو ایک مخلص مقتداء سے محروم کر گئی، وہاں ان ناتواں کندھوں پر ایک بھاری بوجھ کا اضافہ بھی ہوا۔ بقیۃ السلف حضرت مولانا سلیم اللہ خان مدظلہ اور حضرت مولانا ڈاکٹر شیر علی شاہ مدنی رحمہ اللہ علیہ کے حکم سے جانشینی کی دستار بندی کی گئی اور آپ کو حضرت علامہ رحمہ اللہ علیہ کا جانشین مقرر کیا گیا۔
حضرت حاجی صاحب کے علمی، سیاسی، اصلاحی، اور دیگر مسانید کو آپ نے اپنی بھرپور استعداد کے مطابق سنبھالا ہوا ہے۔ اس کی واضح مثال جمعیت علماء اسلام (ن) کے انضمام کے سلسلے میں آپ کی کاوشیں ہیں، جو قابلِ ستائش ہیں۔
حضرت علامہ حاجی عبدالغنی رحمہ اللہ علیہ کی بے شمار خدمات کو جاری و ساری رکھنے کے لیے حافظ صاحب نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جامعہ کے اہتمام، سیاسی مشاغل، فقہی مجالس، درس و تدریس، اصلاحی و دعوتی محافل میں شرکت کے ساتھ ساتھ دیگر کئی اہم دینی خدمات کو اللہ تعالیٰ کے غیبی تعاون، محنت، اور جانفشانی کے ساتھ خوش اسلوبی سے انجام دے رہے ہیں۔