جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
جامعہ کے بانی و مؤسس حضرت علامہ عبدالغنی رحمہ اللہ علیہ کے حالاتِ زندگی مختصراً پیش خدمت ہیں:
1940ء میں چمن اور بولدک کے درمیان ریگستانی علاقے میں رہائش پذیر ایک نہایت متقی اور زاہد انسان امیر عالم کے گھر میں، وقت کے ایک عظیم انسان (شیخ الحدیث حضرت علامہ) عبدالغنی رحمہ اللہ علیہ کی پیدائش ہوئی۔
عبدالغنی رحمہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب: علی ابن میر عالم ابن ملاتو ابن ملا اصغر ابن ملا اللہ داد ابن لا عالم ابن ملا اصغر ابن ملا اللہ۔ آپ ایک عظیم المرتبت انسان تھے۔
حضرت رحمہ اللہ علیہ کی عمر چار سال تھی کہ والد کا سایۂ شفقت سر سے اُٹھ گیا اور آپ بچپن ہی میں والد کی شفقت سے محروم ہو گئے۔ ملا محمد حنفیاء مرحوم کے پاس دو برس کے مختصر عرصے میں ناظرہ قرآن مجید اور ابتدائی فقہی کتاب شروط الصلوٰۃ پڑھی۔
تیرہ سال کی عمر میں چمن کے مشہور عالم دین اور فارغ دیوبند حضرت مولانا محمد نور صاحب نور اللہ مرقدہ کے مدرسے میں علم الفقہ اور فارسیات سے باقاعدہ تعلیم کا آغاز کیا۔ یہاں دو سال پڑھنے کے بعد حضرت رحمہ اللہ علیہ قندھار کی ممتاز علمی شخصیت حضرت مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ علیہ کے پاس کافیہ اور منطق پڑھنے چلے گئے۔ وہاں کتابوں کی تکمیل کے بعد کوئٹہ آگئے اور چمن پھاٹک کے مدرسے میں حضرت مولانا عبدالعزیز رحمہ اللہ علیہ سے علوم دینیہ کی مزید تحصیل کی۔
1958ء میں محض 18 سال کی عمر میں حج مبارک کی سعادت حاصل کی۔ اسی مناسبت سے “حاجی صاحب” کے نام سے مشہور ہوئے، جو تادمِ حیات آپ کے تعارف کا ذریعہ رہا۔
حضرت کی علمی پیاس کو دیکھتے ہوئے استاد محترم حضرت مولانا محمد نور صاحب نور اللہ مرقدہ نے آپ کو دارالعلوم حقانیہ، اکوڑہ خٹک بھیجنے کا حکم دیا۔ حضرت نے بسر و چشم یہ حکم قبول کیا اور مسلسل چار برس وطن نہ گئے، نہ ہی گھر والوں سے رابطہ کیا۔ علم دین کے حصول میں ایسی یکسوئی تھی کہ فارسی کے شعر کا مصداق بن گئے:
جو آپ کو جانتا ہے، وہ جان کے ساتھ کیا کرے؟
اسے اپنے بچوں، خاندان اور بیوی کے ساتھ کیا کرنا چاہیے؟
چار برس بعد گھر والوں کو صرف زندہ ہونے کی اطلاع دینے کے لیے خط لکھا۔ جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک سے 1963ء بمطابق 1383ھ میں فراغت حاصل کی۔
آپ کے اساتذہ میں شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق رحمہ اللہ علیہ (بانی جامعہ حقانیہ) اور شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحلیم رحمہ اللہ علیہ شامل ہیں، جو براہ راست شیخ العرب والعجم حضرت سید حسین احمد مدنی رحمہ اللہ علیہ کے شاگرد تھے۔ اس کے علاوہ آپ نے چمن، کوئٹہ، قندھار، چارسدہ، اور پشاور کے مشہور اساتذہ کرام سے بھی استفادہ کیا۔ آپ کی ذہانت اور ذکاوت سے تمام اساتذہ متاثر ہوئے۔ ہر مدرسے میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوئے اور بلا کا حافظہ رکھتے تھے۔
دارالعلوم حقانیہ سے فراغت کے بعد بلوچستان کے مختلف علمی مراکز میں تدریس میں مشغول رہے۔ جامع مسجد پیر علی زئی، قلعہ عبداللہ اور جامعہ مظہر العلوم، شالدرہ، کوئٹہ میں تین تین سال تدریس فرمائی۔ 1972ء میں آبائی شہر چمن کی مسجد میں امامت، خطابت اور تدریس کا آغاز کیا۔ اپنے محلے میں ایک ابتدائی مدرسہ قائم کیا اور 23 سال تک وہاں تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ کی تدریس کرتے رہے۔
آپ کی علمیت اور فقاہت مسلم تھی۔ آپ کا حلقۂ درس ملک کے بڑے دروس میں شمار ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جب جمعیت علماء اسلام نے کل پاکستان فقہی مجلس قائم کی تو سب اکابرین نے اس کی قیادت کے لیے متفقہ طور پر حضرت شیخ الحدیث علامہ عبدالغنی شہید رحمہ اللہ علیہ کو منتخب کیا۔
آپ کی سرگرمیاں صرف تدریس تک محدود نہ رہیں بلکہ زندگی کے ہر میدان میں نمایاں رہیں۔ قاضی حمیداللہ جان رحمہ اللہ کے مطابق، آپ ایک محدث کبیر، مفتی اعظم اور میدان عمل کے سرفروش مجاہد تھے۔ اقامت دین اور نفاذ شریعت کے لیے آپ نے عملی سیاست میں بھی قدم رکھا اور جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر رہے۔ دو بار (1988ء اور 1997ء میں) رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ آپ ان اولین لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے بلوچستان میں جمعیت علماء اسلام کی بنیاد رکھی اور اسے تناور درخت بنایا۔ آپ کی درویش صفت شخصیت عوام کے لیے مقناطیسی کشش رکھتی تھی۔
27 ذی القعدہ 1432ھ بمطابق 26 اکتوبر 2011ء بروز بدھ، درس حدیث کے لیے آتے ہوئے راہِ خدا میں جان، جان آفرین کے سپرد کی۔ آپ کا جنازہ علمائے دین، طلبہ، اور عوام کا اتنا بڑا اجتماع تھا کہ بلوچستان کی تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ آپ کو الجامعہ الاسلامیہ، چمن میں سپرد خاک کیا گیا۔ قاری ممتاز احمد سرحدی کے مطابق، تقریباً ایک لاکھ افراد نے آپ کا جنازہ پڑھا، اور دفن کے وقت سورج غروب ہو رہا تھا۔ ایسا محسوس ہوا جیسے سارا جہاں اندھیرے میں ڈوب گیا ہو، روشنی گل ہو گئی ہو، علم و کمال کا آفتاب غروب ہو گیا ہو، اور رشد و ہدایت کا چراغ بجھ گیا ہو۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
جان ہی دے جگر نے آج پائے یار میں
عمر بھر کی بے قراری کو قرار آ ہی گیا