جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میاں بیوی کا ایک بستر پر سونے کے بارے میں شرعی احکام
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے میاں بیوی علیحدہ کمروں میں سوئیں،بیوی اس بات پے راضی نہ ہو مگر خاوند پھر بھی علیحدہ ہی سوتا ہو،روز روز اسی بات پے لڑائی ہوتی ہے،بیوی جو ساتھ سونا چاہتی اس کے لیے کیا حکم ہے کیا بیوی کا یہ مطالبہ غلط ہے؟۔
عمومی احوال میں شریعت کی تعلیم یہ ہے کہ میاں بیوی ایک ہی بستر پر آرام کریں،کسی معقول و معتبر وجہ کے بغیر شوہر کو الگ کمرے میں آرام نہیں کرنا چاہیے،بعض علماء نے شوہر کے بیوی کے ساتھ سونے کو سنت شمار فرمایاہے۔
البتہ بعض حالات میں اگرشوہرکسی وجہ سےعلیحدہ سوئےتوبیوی کوایک ہی بسترپرسونے کااصرارکرنا بھی درست نہیں،مثلاً بیوی ایام کی حالت میں ہو اور ساتھ سونے کی صورت میں فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو یا اولاد ہونے کی صورت میں، یااولاد کے باشعور ہونے کی مدت کے بعد عمومًا میاں بیوی بستر جدارکھتے ہیں، یا شوہر تھکاماندہ ہے اور اسے آرام یاراحت کی ضرورت ہے تو ایسے مواقع پر علیحدہ سونے کی گنجائش بھی حدیث و فقہ کی کتب سے معلوم ہوتی ہے؛باقی ایام کی حالت میں اگر فتنے میں وقوع کا خطرہ نہ ہو تو میاں بیوی ساتھ سو سکتے ہیں، بلکہ یہودکی مخالفت کی وجہ سےساتھ سونا چاہیے کہ وہ لوگ ان ایام میں عورت کو چھونا، اس کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا کھانا وغیرہ تک غلط سمجھتے تھے،حاصل یہ ہے کہ اس سلسلہ میں میاں بیوی کے درمیان اتفاق و مفاہمت ضروری ہے، اس طرح کی معمولی باتوں کو جھگڑے یا افتراق کا باعث نہیں بناناچاہیے،بلکہ دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق اور اعذار کالحاظ رکھنا چاہیے،شوہر کو بھی مستقل اپنا بستر بیوی سے جدا رکھنا اور بیوی کے حقوق کو نظر اندازکرنا جائز نہیں، نیز اعذار کی وجہ سے شوہر کبھی علیحدہ سوئے تو بیوی کو اصرار بھی نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کسی عارض عذر کی وجہ سے شوہر اگر علیحدہ کمرے میں سوئے تواس کی گنجائش ہوگی۔
لمافی "مشکوۃ شریف":
وعن عائشة قالت: كنت إذا حضت نزلت عن المثال على الحصير فلم نقرب رسول الله صلى الله عليه وسلم ولم ندن منه حتى نطهر. رواه أبو داود."
(1/174،رقم :556، ط: المكتب الإسلامي بيروت)
وفی "مرقاۃ المفاتیح":
وعن جابر رضي الله عنه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: فراش للرجل، وفراش لامرأته، والثالث للضيف، والرابع. للشيطان.(کتاب اللباس، 7/766، رقم 4310ط:دار الفكر، بيروت - لبنان)
وفی "شرح النووي على مسلم":
والصواب في النوم مع الزوجة أنه إذا لم يكن لواحد منهما عذر في الانفراد فاجتماعهما في فراش واحد أفضل وهو ظاهر فعل رسول الله صلى الله عليه وسلم الذي واظب عليه مع مواظبته صلى الله عليه وسلم على قيام الليل فينام معها فإذا أراد القيام لوظيفته قام وتركها فيجمع بين وظيفته وقضاءحقها المندوب وعشرتها بالمعروف لاسيما إن عرف من حالها حرصها على هذا ثم إنه لا يلزم من النوم معها الجماع والله أعلم(14/60،ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)