جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بیٹھ کر اذان واقامت کہنےکاحکم
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں!
اگر کوئی شخص معذور ہے وہ بیٹھ کر اذان دیتا ہے، تو اس کا اذان دینا کیسا ہے؟ اگر اذان دے سکتا ہے تو تکبیر کہہ سکتا ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے بیٹھ کر اذان واقامت پڑھنا مکروہ ہے؛ لہذا معذور آدمی اذان واقامت نہ پڑھے ، جو آدمی سنت طریقہ پر اذان واقامت کہہ سکے اسی کو اس کا ذمہ دار بنایا جائے۔
وفی "مصنف عبد الرزاق":
عن الثوري، عن أبي إسحاق قال : يكره للمؤذن أن يؤذن وهو قاعد(باب الأذان قاعدا وهل يؤذن الصبي 1/469)
وفی "شامي":
ويكره أذان جنب وإقامة محدث لا أذانه، وأذان امرأة وفاسق و قاعد، إلا إذا أذن لنفسه.
(كتاب الصلوة، باب الأذان، مطلب في المؤذن إذا كان غير محتسب،2/60)
وفی "شامي":
والإقامة كالأذان.
(كتاب الصلوة،باب الأذان،مطلب: في أول من بنى المنابر للأذان،2/55 )