جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
امانت میں رکھی ہوئے چیزسے نفع کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ زید نے بکر کے پاس دس لاکھ روپے بطور امانت رکھوائے،بکر نے زید کے علم میں لائے بغیر اس1000000 (دس لاکھ روپے) کی زمین خرید لی اور کچھ ہی دنوں میں وہ زمین 1200000(بارہ لاکھ روپے)کی فروخت کر دی، اب زید نے بکر سے اپنی امانت طلب کی تو بکر نے اس کو دس لاکھ واپس کردئیے اور دو لاکھ اپنا نفع سمجھ کر اپنے پاس رکھ لئے،کیا ایساکرنا بکرکےلئے جائز ہے؟۔
واضح رہے۔کہ امانت میں رکھی ہوئی چیز،خواہ رقم ہو یا سامان وغیرہ اسے مالک کی اجازت کے بغیر کاروبارمیں لگاناشرعاً جائز نہیں ہے،ایسا کرنا خیانت اورغصب کے زمرے میں آتاہے،جوکبیرہ گناہ ہے۔
مسئولہ صورت میں امانت میں خیانت کرنے سے چونکہ بکر غاصب ہوا،لہذا اس نے گویا مغصوبہ رقم سے زمین خریدی اورپھرآگے بیچ کرنفع کمایاہے اورشرعاً راجح قول کے مطابق مغصوبہ رقم سے حاصل ہونے والانفع غاصب کےلئے حلال نہیں ہوتاہے،یا اس کو صدقہ کرنا پڑتاہے،یاجس کی رقم ہوتی ہے،اس کو لوٹانا پڑتاہے، لہذامذکورہ صورت میں بکرکےلئےدو لاکھ نفع اپنے پاس رکھناجائزنہیں ہے،یہ نفع وہ زیدکو سپرد کردے جس کی اصل رقم ہے۔
اور زید کے لئے مسئولہ صورت میں نفع کا استعمال تب جائزہوگا۔ جب بکرنے یہ رقم زمین سےشریعت کے اصولوں کے مطابق جائزطریقےسے حاصل کی ہو۔
لمافی"قران الکریم":
اِنَّ اللّٰھ یَأْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوْا الْاَمَانَاتِ اِلٰی اَھلِہَا۔ [النساء: ۵۸]
وفی"تفسیر القرطبی":
وأجمعوا علی أن الأمانات مردودۃ إلی أربابھا الأبرار منھم والفجار (۵/ ۲۵۶)
وفی"المرقاةشرح المشکاة":
حق الأمانۃ أن تؤدی إلی أھلہا، فالخیانۃ مخالفۃ لھا (مرقاۃ المفاتیح،۱/ ۱۲۶)
وفی"الفتاویھ الھندیة":
الودیعۃ لا تودع، ولا تعار، ولا تؤاجر، ولا ترھن، وإن فعل شیئا منہا ضمن (هندیۃ، کتاب الودیعۃ، الباب الأول، زکریا قدیم ۴/ ۳۳۸، جدید ۴/ ۳۴۹، کذا فی خلاصۃ الفتاوی، کتاب العاریۃ، الفصل الأول، أشرفیہ دیوبند ۴/ ۲۹۱، البحرالرائق، کوئٹہ ۷/ ۲۷۵، زکریا ۷/ ۴۶۷)
وفی"سنن البیھقی":
”لَا اِیمانَ لِمَنْ لا أ مانةَ لَہ، وَلَا دِینَ لِمَنْ لَا عَھدَ لَہ-۱۲۶۹۰)
وفی"الھدایة":
ومن غصب ألفا فاشترى بها جارية فباعها بألفين ثم اشترى بالألفين جارية فباعها بثلاثة آلاف درهم فإنه يتصدق بجميع الربح عندهما خلافا لأبي يوسف(203/1)
وفی"فتح القدير":
وأصله أن الغاصب أو المودع إذا تصرف في المغصوب أو الوديعة وربح لا يطيب له الربح عندهما ، خلافا لأبي يوسف ، وقد مرت الدلائل وجوابهما في الوديعة أظهر ؛ لأنه لا يستند الملك إلى ما قبل التصرف لانعدام سبب الضمان فلم يكن التصرف في ملكه ثم هذا ظاهر فيما يتعين بالإشارة ، أما فيما لا يتعين كالثمنين فقوله في الكتاب اشترى بها إشارة إلى أن التصدق إنما يجب إذا اشترى بها ونقد منها الثمن .
أما إذا أشار إليها ونقد من غيرها أو نقد منها وأشار إلى غيرها أو أطلق إطلاقا ونقد منها بطيب له ، وهكذا قال الكرخي ؛ لأن الإشارة إذا كانت لا تفيد التعيين لا بد أن يتأكد بالنقد ليتحقق الخبث .وقال مشايخنا : لا يطيب له قبل أن يضمن ، وكذا بعد الضمان بكل حال ، وهو المختار لإطلاق الجواب في الجامعين والمضاربة ...... قال مشايخنا : بل لا يطيب بكل حال أن يتناول من المشتري قبل أن يضمن ، وبعد الضمان لا يطيب الربح بكل حال ، وإطلاق الجواب هاهنا والمضاربة والجامع الكبير دليل على هذا القول وهو المختار ، إلى هنا لفظ فخر الإسلام في شرح الجامع الصغير (21/195)
وفی"ردالمحتار":
قال أبو نصر : يطيب له ولا يجب عليه أن يتصدق إلا في الوجه الأول ، وإليه ذهب الفقيه أبو الليث ، لكن هذا خلاف ظاهر الرواية فإنه نص في الجامع الصغير : إذا غصب ألفا فاشترى بها جارية وباعها بألفين تصدق بالربح(20/327)