جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
عورتوں کا شوہر کی زیب وزینت کی خاطر بال کاٹنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں!
کہ شوہر کے لیے زیب و زینت کی خاطر عورتوں کا بال کاٹنا جائز ہے یا نہیں؟ـ
واضح رہے کہ بیوی پر شوہر کے حقوق میں سے یہ بھی ہے،کہ وہ اپنے شوہر کے لیے شرعی حدود میں رہتے ہوئے ہر جائز زیب وزینت اختیار کرے، اس کے لیے بناؤ سنگھار کرے ،البتہ ایسی بناؤ سنگھار کرنا جس کی شرعاً اجازت نہیں ہو یا بے دین عورتوں کا شعار ہو، اس کا اختیارکرنا چاہے شوہر ہی کے لیے کیوں نہ ہو،شرعاً درست نہیں ہے۔خواتین کے لیے بلا عذر بال کاٹنے کی اجازت نہیں ہے،البتہ اگر کوئی شرعی عذر ہو مثلاً : علاج کی غرض سے بال کٹوانے ہو یا بال اتنے طویل ہو جائیں کہ سرین سے بھی نیچے ہو جائیں اور عیب دار معلوم ہوں تو فقط زائد بالوں کا کاٹناجائز ہے؛لہذا صرف خاوند کی خوشی کی خاطر بالوں کی کٹنگ کروانا جائزنہیں ہے۔
لمافی "مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصا بیح":
(وعنه) : أي عن ابن عمر (قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (من تشبه بقوم) : أي من شبه نفسه بالكفار مثلا في اللباس وغيره، أو بالفساق أو الفجار أو بأهل التصوف والصلحاء الأبرار. (فهو منهم) أي في الإثم والخير. قال الطيبي: هذا عام في الخلق والخلق والشعار....(الخ•)
(کتاب اللباس،7/2782 رقم:43،73 ط:دارالفکر)
وفی "الردتحتہ":
(قوله لا طاعة لمخلوق إلخ) رواه أحمد والحاكم عن عمران بن حصين اهـ جراحي (قوله والمعنى المؤثر) أي العلة المؤثرة في إثمها التشبه بالرجال فإنه لا يجوز كالتشبه بالنساء حتى قال في المجتبى رامزا: يكره غزل الرجل على هيئة غزل النساء.(کتاب الحظروالإباحۃ، فصل في البیع،6/407 ،ط:سعید)