جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کسی سامان کا لیبل تبدیل کر کے بیچنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ اگر کسی سامان سے اس کے کمپنی کا لیبل ہٹا کر دوسری کمپنی کا لیبل لگاکر بیچنا کیسا ہے؟اسی طرح اگر کسی سامان پر کوئی لیبل یا نام وغیرہ نہ ہو اس کو ڈبے میں ڈال کر کوئی نام دے کر بیچ سکتے ہیں یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ اگر کسی کمپنی کا نام استعمال کرتے ہوئے اپنی مصنوعات پریا کسی اور کمپنی کے سامان پر اس کا لیبل لگانا گاہک کو دھوکہ دینا ہےاس لئے شرعاً جائز نہیں،البتہ اگر اس کی وضاحت کی جائے کہ یہ اصل نہیں ہے بلکہ نقل ہے ،تو پھر دھوکہ نہ ہو گا ۔
ایسی طرح اگر کسی سامان پرکوئی لیبل یا نام وغیرہ نہ ہو تو اس کو ڈبوں میں ڈال کر کوئی ایسا نام دیا جاسکتا ہے جو کسی اور کے استعمال میں نہ ہو اور نہ ہی اس سے گاہک کو دھوکہ ہوتا ہو ۔
لمافی"سنن الترمذی":
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟» ، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس» ، ثم قال: «من غش فليس منا»(،ج:3،ص:598)
وفی"البحرالرائق":
وضابط الغش المحرم أن يشتمل المبيع على وصف نقص لو علم به المشتري امتنع عن شرائه فكل ما كان كذلك يكون غشا وكل ما لا يكون كذلك لا يكون غشا محرما.(:ج:6،ص:38)
وفی"الدر المختار":
لا يحل كتمان العيب في مبيع أو ثمن لان الغش حرام
(الدر المختار شرح تنويرالأبصار،باب خيار العيب،ص:412)