جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اللہ کے نام والے لاکٹ کو پگھلانے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ ہماری سونے کی دکان ہے،ہمارے پاس اللہ کے نام والے لاکٹ آتے ہیں، کیا ان کو ہم پگھلا سکتے ہیں؟۔
واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں اللہ کے نام والے لاکٹ کو پگھلانے میں پہلے اسے آگ کے مرحلہ سے گزارنا پڑے گا، جب کہ اللہ کے نام کو جلانا بے ادبی ہے، تاہم ایسی صورت میں بامر مجبوری پہلے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے پھر اس کے بعد اس کو پگھلادینا چاہیے۔
لمافی"الشامیھ":
"الكتب التي لا ينتفع بها يمحى عنها اسم الله وملائكته ورسله ويحرق الباقي."
(كتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغيره، ج: 6، ص: 422، ط: دار الفكر)
وفی"الھندیھ":
"ولو كان فيه اسم الله تعالى أو اسم النبي صلى الله عليه وآله وسلم، ويجوز محوه ليلف فيه شيء، كذا في القنية. ولو محا لوحا كتب فيه القرآن واستعمله في أمر الدنيا يجوز."
(كتاب الكراهية، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة والمصحف وما كتب فيه شيء من القرآن، ج: 5، ص: 322، ط: دار الفكر)