جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اپنے آپ کو بچانے یا کسی کی دل ٹوٹنےسے بچانے کے لئے جھوٹ بولنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ اگر جھوٹ اپنے آپ کو بچانے یا کسی کے غصہ سے بچنے کی وجہ سے بولا جائے یا کسی کا دل نہ ٹوٹے اس وجہ سے بولا جائے تو کیسا ہے؟ اگر ان صورتوں میں جھوٹ بول دیا جائے تو اس کی معافی اللہ پاک سے مانگنے پر مل جائے گی یا جس سے جھوٹ بولا اسے سچ بتا کے ازالہ کیا جائے؟۔
واضح رہے کہ جھوٹ بولنا کبیرہ گناہوں میں سے ہے اس لیئے جھوٹ سے بچنا اور سچ کو لازم پکڑنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، لیکن شریعتِ مطہرہ نے ضرورت کے مواقع پر "توریہ" اور "تعریض" کی گنجائش دی ہے جہاں سچ بول کر مقصود حاصل کرنا ممکن نہ ہو، ایسے مواقع پر صریح جھوٹ نہ بولا جائے، بلکہ گول مول سی بات کی جائے ، مثلاً جان جانے کا خطرہ ہو تو "توریہ" اختیار کرکے جان بچالی جائے، دو بندوں میں صلح کرانے کی غرض سے "توریہ"سے کام لیا جاسکتا ہے، لیکن کسی کے غصے سے بچنے کے لیے یا کسی کے دل ٹوٹ جانے کے خوف سے "توریہ" اختیار کرنا جائز نہیں۔
اگر کسی سے جھوٹ بولنے کی وجہ سے اس کا حق ضائع ہوا ہے تو اسے اس کی اطلاع کرکے اس کا حق ادا کرنا ضروری ہے، صرف معافی مانگنے سے حق ساقط نہیں ہوگا، اگر جھوٹ کی وجہ سے کسی کا حق ضائع نہیں ہوا تو اسے بتانا ضروری نہیں، اللہ کے حضور توبہ کرکے آئندہ نہ کرنے کا عزم کریں۔
لمافی"البیان القران":
﴿ إِنَّ الله َ لَا يَهْدِيْ مَنْ هُوَ مُسْرِف كَذَّاب ﴾
وفی"الصحیح المسلم":
آية المنافق ثلاث وإن صام وصلى وزعم أنه مسلم: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان·" ( 59)
وفی"مسند احمد":
وعن أبي أمامة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ((يطبع المؤمن على الخلال كلها إلا الخيانة والكذب )
(22170)