جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
چوکیدار کے لئے نماز باجماعت کے ترک کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ میرے والد صاحب مسجد میں چوکیدار ہیں اور وہ مغرب کے سوا باقی نمازیں خود اکیلے پڑھتے ہیں اور وقت داخل ہونے کے بعد فوراً پڑھتے ہیں، وجہ یہ ہے کہ جماعت کے وقت ان کو ڈیوٹی دینی پڑتی ہے، تو کیا ان کا اس طرح نماز پڑھنا درست ہے؟ اگر درست نہیں تو پھر کیا طریقہ کار ہونا چاہیے؟۔
واضح رہے کہ حنفیہ کے ہاں نماز باجماعت ادا کرنا سنتِِ مؤکدہ ، واجب کے قریب ہے، احادیثِ مبارکہ میں ترکِِ جماعت پر سخت وعیدیں آئی ہیں، بلاعذر جماعت ترک کرنا گناہ ہے، ہر مسلمان مرد پر ضروری ہے کہ وہ مساجد میں جاکر باجماعت نماز ادا کرنے کا اہتمام کرے، ملازمت ایسا عذر نہیں کہ اس کی وجہ سے مستقل جماعت کو ترک کردیا جائے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر نماز کے مقررہ اوقات میں سائل کے والد کی ڈیوٹی ہوتی ہے تو ایسی صور ت میں ان کو چاہیے کہ اپنے ساتھ ایک دو افراد کو لے کر مسجد کی جماعت کے بعد شرعی مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھا کریں، تاکہ مستقل جماعت چھوڑنے کا گناہ نہ ہو۔
لمافی"سنن النسائي":
"قال أبو الدرداء: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «ما من ثلاثة في قرية ولا بدو لا تقام فيهم الصلاة إلا قد استحوذ عليهم الشيطان، فعليكم بالجماعة؛ فإنما يأكل الذئب القاصية»۔ قال السائب: يعني بالجماعة الجماعة في الصلاة."(106/2)
وفی"الدر المختار":
والجماعة سنة مؤكدة للرجال
(552/15)
وفی"حلبي کبیر":
وکذا الأحکام تدل علی الوجوب من أن تارکها من غیر عذر یعزر، وترد شهادته، ویأثم الجیران بالسکوت عنه، و هذہ کلها أحکام الواجب."
(ص۵۰۹ ، /فصل في الإمامة)