جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
فجر اور مغرب کی سنتوں میں سورہ کافرون سورہ اخلاص پڑھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے!
کہ اگر کوئی فجر اور مغرب کی سنتوں میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص ،اسی طرح وتر میں سورہ اعلی ،کافرون اور اخلاص سنت سمجھ کر پڑھنے کی عادت بنالے تو کیا اس کا یہ عمل جائز ہوگا؟۔
واضح رہے کہ فجر اور مغرب کی سنتوں میں سورہ کافرون اور سورہ اخلاص ،وتر میں سورہ اعلی ،کافرون اور اخلاص پڑھنا احادیث سے ثابت ہےاس لئے یہ مستحب ہے تاہم کبھی کبھی اور سورتیں بھی پڑھ لیا کرےتاکہ باقی سورتوں کا چھوڑنا لازم نہ آئے۔
لمافی"الشامیھ":
قوله ( والسنة السور الثلاث ) أي الأعلى والكافرون و الأخلاص لكن في النهاية أن التعيين على الدوام يفضي إلى اعتقاد بعض الناس أنه واجب وهو لا يجوز .فلو قرأ بما ورد به الآثار أحيانا بلا مواظبة يكون= حسنا.(441/2)
وفی"الھندیھ":
عن النبي صلي الله عليه وسلم انه اوتر بسبح اسم ربك الاعلي وقل يا ايها الكافرون و قل هو الله احد فيقرأ احيانا هذا للتبرك واحيانا غير ذلك للتحرز عن هجران باقي القرآن كذا في التهذيب.(1/77)