جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بیوی سے یہ کہنا کہ میں نے تجھے آزادکیا آزادکیا آزاد کیا کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے یہ کہہ دے کہ میں نے تجھے آزاد کیا،آزاد کیا آزاد کیا اس طرح الفاظ کہنے سے کونسا طلاق واقع ہوگا؟۔
واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں بیوی پرتین طلاقیں واقع ہوجائگی اس لئے کہ "آزاد کیا "کا لفظ ہمارے عرف میں صرف طلاق ہی کے لئے مستعمل ہے۔
لمافی"الرد المحتار:"
فإذا قال: " رہا کردم أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا وما ذاك إلا ؛ لأنه غلب في عرف الفرس استعماله في الطلاق، وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت.
(باب الكنايات ۲۹۹/۳ )
وفی"البزازیة:"
قوله سرحتك و هو بهایله کردم لانه صار صریحا علی ما صرح به نجم الزاهدی الخوارزمي في شرح القدوري(189/1/طبع رشیدیة )
وفی"الھندی:"
وإن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة، وثنتين في الأمة، لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً، ويدخل بها، ثم يطلقها، أو يموت عنها.
(كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة وما يتصل به ۴۷۳/۱، رشیدیه)