جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
سجدہ سہو چھوٹ جائے اور نماز میں سلام پھیر دے تو نماز ہوجائے گی یا نہیں۔
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسلے کے بارے میں!
کہ اگر سجدہ سہو چھوٹ جائےاور نماز میں سلام پھیر دے تو نماز ہوجائے گی یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ اگر نماز میں سجدہ سہو واجب ہوجائےاور نمازی سجدہ کرنا بھول جائے اور سلام پھیر لے تواگر اس نے سلام کے بعد کسی سے بات نہیں کی اور سینہ قبلہ سے نہیں پھیرا تو یاد آتے ہی دو سجدہ کرے پھر بیٹھ کر التحیات، درود شریف اور دعا پڑھ کر سلام پھیر دے تو اس کی نماز ہوجائے گی۔ اور اگر اس نے کسی سے بات چیت کرلی یا قبلہ سے سینہ پھیر دیا تو اب یہ نماز نقصان کے ساتھ ادا ہوئی ہے، اس کا وقت کے اندر اندر اعادہ کرنا واجب ہے، اور وقت کے بعد اعادہ کرنے کی تاکید کم ہے، البتہ اعادہ کرلینا بہتر ہے۔
2)۔۔۔۔۔تین یا چار رکعت والی کسی بھی نماز میں اگر بھول کر پہلے قعدہ میں غلطی سے سلام پھیردیا جائے اور فورًا یاد آنے پر نماز کے منافی کوئی کام (مثلًا بات چیت کرنا ، قبلہ سے سینہ پھیرلینا یا عملِ کثیر وغیرہ) کیےبغیر تیسری رکعت کے لئے کھڑا ہوجائے اور باقی نماز سجدہ سہو کے ساتھ پوری کرلے تو نماز ادا ہوجائے گی،لیکن اگر آخر میں سجدہ سہو نہ کیا تو نماز ناقص ادا ہوگی اوروقت کے اندر اس نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگااور وقت گزرنے کے بعد لوٹانا واجب نہیں ہوگا۔
لمافی"الدر المختار:"
"(ويسجد للسهو ولو مع سلامه) ناويا (للقطع) ؛ لأن نية تغيير المشروع لغو، (ما لم يتحول عن القبلة أو يتكلم) لبطلان التحريمة، ولو نسي السهو أو سجدة صلبية أو تلاوية يلزمه ذلك ما دام في المسجد، (سلم مصلي الظهر) مثلًا (على) رأس (الركعتين توهمًّا) إتمامها (أتمها) أربعا (وسجد للسهو) ؛ لأن السلام ساهيا لا يبطل؛ لأنه دعاء من وجه".
( كتاب الصلاة، باب سجود السهو (2/ 91)، ط. سعيد)
وفی"حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح:"
"حاصل المسألة: أنه إذا سلم ساهيا على الركعتين مثلا وهو في مكانه ولم يصرف وجهه عن القبلة ولم يأت بمناف عاد إلى الصلاة من غير تحريمة وبنى على ما مضى وأتم ما عليه ... وأما إذا انصرف وجهه عن القبلة فإن كان في المسجد ولم يأت بمناف فكذلك لأن المسجد كله في حكم مكان واحد لأنه مكان الصلاة وإن كان قد خرج من المسجد ثم تذكر لايعود وفسدت صلاته".
(: كتاب الصلاة، باب سجود السهو (1 / 473)، ط. دار الكتب العلمية بيروت)
وفی"الدر المختار:"
"كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوبا في الوقت، وأما بعده فندبا".
(: كتاب الصلاة، باب قضاء الفوائت (2/ 64)، ط. سعيد)