جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بغیر وضو سکرین پرآیتِ قرآن کوچھونا کیسا ہے؟
کیافرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کےبارے میں!
کہ بغیروضو سکرین پرایتِ قران کو چھوناجائزہےیاناجائز؟۔
واضح رہےکہ موبائل کی سکرین پر قرآن کریم کو بےوضوچھوناجائزنہیں ہے؛
کیونکہ موبائل کی سکرین حائلِ متصل ہے؛ لہذا اگر موبائل کی سکرین پر قرآنِ کریم کھلا ہوا ہو تو بے وضو سکرین کو چھوناجائزنہیں ہے؛ کیونکہ جس وقت قرآنِ کریم سکرین پر کھلا ہوا ہوتا ہے اس وقت سکرین کو چھونا قرآن کو چھونےکےحکم میں ہوتا ہے؛ البتہ موبائل کو مختلف اطراف سےچھونا اور پکڑناجائز ہے،اورتلاوت بھی کرسکتےہیں-
لما فی"الدر المختار:"
"(وقراءة قران) بقصدہ(ومسه)ولو مکتوبا باالفارسیة فی الاصح (الا بغلافه) المنفصل.....(إلخ•) "
(کتاب الطھارة :الباب الرابع،١\٥٣٥، ط:مکتبہ رحمانیه)
وفی"حاشیةالطحطاوی:"
"(و) یحرم(مسھا) اي الا یةلقولہ تعالی (لایمسه الا المطھرون) سواءکتب علی قرطاس او درھم او حائط (الا بغلاف) متجانف عن القران۔۔۔۔۔(الخ•)"
(كتاب الطهارة:ص١٤٣،ط:مكتبه رشیدیه)
"وفی"الفتاوی الھندیة:"
(ومنھا) حرمة مس المصحف لایجوز لھماوللجنب والمحدث مس المصحف الا بغلاف متجانف عنه۔۔۔۔۔ (إلخ•)"
(کتاب الطھارة:١\٣٨-٣٩،ط: مکتبہ رشیدیه)