جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بلی کی وضع حمل کے بعد نکلنے والی نال کو دکان میں خیر وبرکت کے لئے رکھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ بلی کی نال ( آنت کی مانند وہ نلی جو ایک طرف آنول (جنین کے لپٹنے کی جھلی) سے اور دوسری جانب بچے کی ناف سے جڑی رہتی ہے اور جسے ولادت کے بعد بچے کی ناف سے کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے) کو لوگ خرید کر خیروبرکت کےلئے دکانوں میں رکھتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟۔
واضح رہے کہ صورتِ مسئولہ میں بلی کی نال( آنت کی مانند وہ نلی جو ایک طرف آنول (جینین کے لپٹنے کی جھلی) سے اور دوسری جانب بچے کی ناف سے جڑی رہتی ہے اور جسے ولادت کے بعد بچے کی ناف سے کاٹ کر الگ کر دیا جاتا ہے) کو دکان میں خیر وبرکت کے لیے رکھنےکی شریعت میں کوئی اصل نہیں ہے،اس قسم کے توہمات سے پرہیز لازم ہے۔
لمافی"القرآن الکریم:"
’’مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنْ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ‘‘(النساء 79)
وفی"تفسیر کبیر:"
"ما أصابك من حسنة يفيد العموم في جميع الحسنات، ثم حكم على كلها بأنها من الله، فيلزم من هاتين المقدمتين، أعني أن الإيمان حسنة، وكل حسنة من الله، القطع بأن الإيمان من الله."
(سورة النساء، 147/10، ط:دار إحياء التراث العربي)
وفی"مرقاۃ المفاتیح:"
"قال النووي: البدعة كل شيء عمل على غير مثال سبق، وفي الشرع إحداث ما لم يكن في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم وقوله: كل بدعة ضلالة."
(كتاب الإيمان، باب الاعتصام بالكتاب والسنة، 223/1، ط: دار الفكر)