جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میت کے اہل خانہ کو رقم دینے کا رواج
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ ہمارے ہاں ایک رواج ہے اوروہ یہ ہے کہ جب کسی گھر میں فوتگی ہوجائے تو اس میت کےقبیلے کے لوگوں پر لازم ہے کہ وہ میت کے اہل خان کو پانچ سو روپے دیں گے اور یہ پیسے دینا ہر ایک گھر پر لازم ہےاور وہ اس کو خاندانی تعاون کا نام دے کر جائز سمجھتے ہیں اور ہمارے علاقے کے کچھ مفتیان صاحبان اس کو خاندانی تعاون کا نام دے کر جائز سمجھتے ہیں۔ اور یہ پیسے صرف ایک قوم یعنی قبیلے کے لوگوں کے ساتھ خاص ہیں کہ ہر گھر والے پانچ سو روپے میت کے اہلِ خانہ کو دیں گے تو کیا یہ جائز ہے ؟۔
واضح رہے کہ تعاون میں تو رضامندی ہوتی ہے،جبرنہیں ہوتا،لہذاسائل کے بیان کے مطابق جبری طور پریا خاندانی دباؤ وغیرہ میں میت کے اہل خانہ کو رقم دینے کو جائز تعاون نہیں کہا جاسکتا، اس طرح کا معاملہ شرعًا جائز نہیں ہے۔اس طرح کے غیر شرعی خاندانی رواج کو ترک کردینا چاہیے۔
لمافی"مسنداحمد:"
"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: کنت آخذاً بزمام ناقة رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه و سلم في أوسط أیام التشریق أذود عنه الناس، فقال: یا أیها الناس! ألا لاتظلموا ، ألا لاتظلموا، ألا لاتظلموا، إنه لایحل مال امرء إلا بطیب نفس منه".
( رقم الحدیث:20714،ج:5،ص:72،ط: قرطبة القاهرة)
وفی"درر الحکام:"
"المادة (1192) - (كل يتصرف في ملكه كيفما شاء
كل يتصرف في ملكه المستقل كيفما شاء أي أنه يتصرف كما يريد باختياره أي لا يجوز منعه من التصرف من قبل أي أحد هذا إذا لم يكن في ذلك ضرر فاحش للغير. انظر المادة (1197) .
كما أنه لا يجبر من أحد على التصرف أي لا يؤمر أحد من آخر"
(الکتاب العاشر الشرکات،ج3،ص201،ط؛دار الجیل)