جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
علاج کے لئے پتھر پہننا کیسا ہے
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ علاج کے لئے پتھر پہنا کیسا ہے؟ کچھ لوگ پتھروں کے فوائد بیان کرتے ہیں کہ یہ پتھر رزق میں برکت کرتا ہے،طالب علم فلاں پتھر کا استعمال کریں ۔اس عقیدے کے ساتھ پتھر کا استعمال کیا جائے کہ شفا اللہ تعالیٰ دے گا،پتھر نفع نقصان ،صحت کا مالک نہیں ہے، کیسا ہے؟
کیا پتھر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں؟۔
واضح رہے کہ انگوٹھی میں جو مختلف قسم کے پتھر لگوائے جاتے ہیں، مثلاً: عقیق، فیروز، یاقوت وغیرہ اس کے بارے میں یہ اعتقاد ویقین رکھنا کہ فلاں پتھر میری زندگی پراچھے اثرات ڈالتا ہے، فلاں پتھر رزق میں برکت کا سبب بنے گا اور فلاں مرض سے شفایابی کا سبب بنے گا، یہ عقیدہ غلط ہے، اس عقیدے کے ساتھ انگوٹھی میں پتھروں کا استعمال ناجائز وحرام ہے، مذکورہ عقیدہ نہ ہوتو اپنے ذوق کے اعتبار سے کوئی بھی پتھر لگانے کی گنجائش ہے۔
زمین اور آسمان میں جتنی بھی چیزیں ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہیں، لیکن ہم ا سے نہیں سمجھ سکتے، پتھر بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور وہ اس کی تسبیح بیان کرتی ہے۔
لمافی"القرآن کریم:"
"تُسَبِّحُ لَهُ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُ وَمَنْ فِيهِنَّ وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ وَلَكِنْ لَا تَفْقَهُونَ تَسْبِيحَهُمْ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا (سورہ نبی
اسرائیل:44)"
وفی"صحيح المسلم:"
"حدثنا خلف بن هشام والمقدمى وأبو كامل وقتيبة بن سعيد كلهم عن حماد -قال خلف: حدثنا حماد بن زيد- عن عاصم الأحول عن عبد الله بن سرجس قال: رأيت الأصلع -يعنى عمر بن الخطاب - يقبل الحجر، ويقول: والله إنى لأقبلك وإنى أعلم أنك حجر، وأنك لاتضر ولاتنفع، ولولا أنى رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلك ما قبلتك".
(الصحيح لمسلم، كتاب الحج، باب استحباب تقبيل الحجر الأسود فى الطواف (۱/ ۴۱۳) ط:قديمي)
وفی"شرح النووی:"
"وأما قول عمر رضي الله عنه: لقد علمت أنك حجر وأنى لأعلم أنك حجر، وأنت لاتضر ولاتنفع، فأراد به بيان الحث على الاقتداء برسول الله صلى الله عليه وسلم في تقبيله ونبه على أنه أولا الاقتداء به لما فعله، وإنما قال: وأنك لاتضر ولاتنفع؛ لئلايغتر بعض قريبى العهد بالاسلام الذين كانوا ألفوا عبادة الأحجار وتعظيماً ورجاء نفعها وخوف الضر بالتقصير في تعظيمها، وكان العهد قريباً بذلك، فخاف عمر رضي الله عنه أن يراه بعضهم يقبله ويعتنى به فيشتبه عليه، فبين أنه لايضر ولاينفع بذاته، وإن كان امتثال ما شرع فيه ينفع بالجزاء والثواب، فمعناه أنه لا قدرة له على نفع ولا ضر، وأنه حجر مخلوق كباقي المخلوقات التي لاتضر ولاتنفع، وأشاع عمر هذا في الموسم ليشهد في البلدان ويحفظه عنه أهل الموسم المختلفوا الأوطان والله أعلم".
(شرح النووي علي صحيح المسلم، كتاب الحج، باب استحباب تقبيل الحجر (۱/ ۴۱۳) ط:قديمي)