جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
میت کو غسل دینے کے بعد اس کے چہرے کی مسکراہٹ وغیرہ کیا جنتی ہونے کی دلیل ہے؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ کسی عورت کا انتقال ہونے کے بعد اسے غسل دینے اور سنوار نے کے بعد ، اس کے چہرے پر جو نور آتا ہے، اور چہرہ مسکراتا ہوا ہنستا ہوا نظر آنے لگتا ہے، اس کی کیا حیثیت ہے؟ لوگ کہتے ہیں کہ وہ عورت جنتی ہے؟۔
واضح رہے کہ موت کے بعد ایسی کوئی یقینی علامت موجود نہیں ہے جس سے بندے کے جنتی ہونے کی دلیل لی جائے ،ہاں البتہ کبھی میت کے چہرے کی خوبصورتی یا مسکراہٹ کی وجہ سے اس کی چمک ،یا اسی جیسی کسی اور نشانی سے کچھ اشارے مل سکتے ہیں ، لیکن یہ بھی اس وقت ہے جب اس شخص کی زندگی تقویٰ ،اللہ رب العزت کے احکامات اور نبی علیہ الصلاۃ والسلام کے طریقوں کے مطابق گزری ہو،تاہم اس بارے میں کوئی یقینی بات یا فیصلہ کرنا درست نہیں۔
چنانچہ اگر مرنے والابندہ اپنی زندگی میں نیکی وتقوی میں مشہور تھا، پھر اس کی موت کے بعد اس کا چہرہ خوبصورتی سے چمک اٹھا ،تو یہ ایسی علامت ہے جس سے نیک شگونی لی جاسکتی ہے اور اس پر خیر کی امید کی جا سکتی ہے،لیکن یقینی طور پر اس شخص پر جنتی ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا؛ کیونکہ یہ صرف اللہ رب العزت کے علم میں ہے۔
لمافی"صحیح بخاری:"
"حدثنا يحيى بن بكير: حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب قال: أخبرني خارجة بن زيد بن ثابتأن أم العلاء، امرأة من الأنصار بايعت النبي صلى الله عليه وسلم، أخبرته: أنه أقسم المهاجرون قرعة، فطار لنا عثمان بن مظعون، فأنزلناه في أبياتنا، فوجع وجعه الذي توفي فيه، فلما توفي وغسل وكفن في أثوابه، دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: رحمة الله عليك يا أبا السائب، فشهادتي عليك: لقد أكرمك الله. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: (وما يدريك أن الله أكرمه). فقلت: بأبي أنت يا رسول الله، فمن يكرمه الله؟ فقال: (أما هو فقد جاءه اليقين، والله إني لأرجو له الخير، والله ما أدري، وأنا رسول الله، ما يفعل بي). قالت: فوالله لا أزكي أحدا بعد أبدا ."
(كتاب الجنائز، باب: الدخول على الميت بعد الموت اذا ادرج فى كفنه، ج:1، ص:419، رقم:1186، ط:دار ابن كثير، دار اليمامة - دمشق)