جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسافر جماعت میں کس نیت کے ساتھ شامل ہو جائے
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ راہ چلتے مسافرنے مسجد میں لوگوں کو نمازپڑھتے دیکھا، اب یہ مسافر ان کے ساتھ جماعت میں شمولیت چاہتاہے، لیکن اسے معلوم نہیں کہ امام مقیم ہے یا مسافر ! اب یہ مسافر اس کی اقتدا میں کیسے نیت کرے گا؟۔
واضح ریے کہ مسافر اگر جماعت کی نماز میں شامل ہو رہا ہو تو اس کے لئے وقتی فرض کی ادائیگی کی نیت کرنا ضروری ہے، نہ کہ تعدادِ رکعات کی، پس اگر مسافر مقتدی نے امام کو مقیم سمجھ کر اس کی اقتدا کی اور چار رکعت کی نیت کرلی اور امام نے دو رکعت پر سلام پھیر دیا تو مسافر بھی امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دے گا اور مسافر مقتدی مسبوق ہونے کی صورت میں بھی قصر ہی کرے گا.
امام کے مسافر ہونے کی صورت میں امام کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ ظہر عصر اور عشاء میں دو رکعت ادا کرکے سلام پھیر نے کے بعد اعلان کردے کہ میں مسافر ہوں؛ لہذا مقیمین اپنی نماز پوری کرلیں. اور اگر امام ایسا اعلان نہ کرے اور امام کے مسافر ہونے کا علم نہ ہو تو مسبوق مسافر ظہر عصر عشاء میں چار رکعات مکمل کرے گا۔
لمافی"تنویر الأبصار مع الدر المختار:"
"(وَلَا بُدَّ مِنْ التَّعْيِينِ عِنْدَ النِّيَّةِ) ... (لِفَرْضٍ) أَنَّهُ ظُهْرٌ أَوْ عَصْرٌ ...(وَوَاجِبٍ) أَنَّهُ وِتْرٌ أَوْ نَذْرٌ...(دُونَ) تَعْيِينِ (عَدَدِ رَكَعَاتِهِ) لِحُصُولِهَا ضِمْنًا، فَلَا يَضُرُّ الْخَطَأُ فِي عَدَدِهَا". ( شامي، كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ١/ ٤١٨ - ٤٢٠)
وفی"التاتارخانیھ:"
"إذا اقتدی بإمام لايدري أنه مقيم أو مسافر، قالوا: لايصح اقتداؤه ؛ لأن العلم بحال الإمام شرط أداء الصلاة بالجماعة، و رواية الكتاب تدل علي أنه يصح الإقتداء بالإمام و إن لم يعرف بحاله أنه مسافر أو مقيم. قلت: تلك الرواية محمولة علی ما إذا بنوا أمر الإمام علی ظاهر حال الإقامة، و الحال أنه ليس بمقيم و سلم علی رأس الركعتين و تفرقوا علی ذلك لاعتقادهم بفساد صلاة الإمام، و أما اذا علموا بعد الصلاة بحال الإمام كان إقتداؤهم جائزاً و إن لم يعلموا بحال وقت الاقتداء به. فإن أخبرهم قبل الشروع بأني مسافر فسلم علی رأس الركعتين فقام جازت صلاتهم... الخ (كتاب الصلاة، الفصل الثاني و العشرون في صلاة المسافر، نوع آخر في بيان ما يصير المسافر مقيما بدون نية الإقامة. ( ٢/ ٢١)