جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
پہلی بیوی کو دوسری بیوی کے ساتھ مراسم رکھنے پر مجبور کرنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ کیا خاوند اپنی پہلی بیوی کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ اس کی دوسری بیوی سے مراسم رکھے؟۔
واضح رہےکہ صورتِ مسئولہ میں شوہرپہلی بیوی کو دوسری بیوی کے ساتھ مراسم رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتا، البتہ اگر شوہر کسی جائز کام میں دوسری کے ساتھ مراسم رکھنے کا حکم دے تو اخلاقاً پہلی بیوی کو شوہر کی بات ماننی چاہیےاور اگر کسی خلافِ شرع کام میں دوسری کے ساتھ مراسم رکھنے کا حکم دے تو شوہر کی بات نہ ماننا ضروری ہے، نیز ملحوظ رہے کہ شریعت مطہرہ نے قطع تعلقی کو ناجائز قرار دیا ہے،لہٰذا اگر کسی شخص کی دو بیویاں ہوں تو ان بیویوں پر لازم ہے کہ آپس کے باہمی تعلقات برقرار رکھیں، ایک دوسرے سے قطع تعلقی اختیار کرنا بات چیت بند کردینا جائز نہیں قطع تعلقی کا گناہ ملے گا۔
لمافی"مشكاۃ المصابيح:"
وعن النواس بن سمعان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق."
(كتاب الإمارة والقضاء، الفصل الثانی، ج : 2، ص : 332، ط : مکتبة رحمانیة)
وفیها ایضا
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو كنت آمر أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها . رواه الترمذي"
(کتاب النکاح، باب عشرة النساء، الفصل الثاني، ج : 2، ص : 289، ط : مکتبةرحمانیة)
وفیها ایضا
"وعن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الرحم معلقة بالعرش تقول: من وصلني وصله الله ومن قطعني قطعه الله ". متفق عليه
وفیها ایضا
وعن جبير بن مطعم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يدخل الجنة قاطع" . متفق عليه
(باب البر والصلة، الفصل الأول، ج : 2، ص : 433، ط : مکتبة رحمانیة)
وفی"فيض القدير:"
"(أعظم الناس حقا على المرأة زوجها) حتى لو كان به قرحة فلحستها ما قامت بحقه ولو أمر أحد أن يسجد لأحد لأمرت بالسجود له فيجب أن لا تخونه في نفسها ومالها وأن لا تمنعه نفسها وإن كانت على ظهر قتب وأن لا تخرج إلا بإذنه ولو لجنازة أبويها."
(حرف الهمزة، ج : 2، ص : 5، ط : المكتبة التجارية الكبرى)