جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
عورت کا نکاح و شادی کی غرض سے مسلمان ہونے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ ایک آدمی مسلمان ہے اور عورت کافر ہے، یہ عورت اس آدمی کیلۓ اسلام قبول کرتی ہے اور یہ دونوں محبت کرتے ہیں ایک دوسرے کیساتھ اور یہ لڑکی اپنے ماں باپ سب کو چھوڑتی ہے اور اسلام کو قبول کرتی ہے اس آدمی کی خاطر ،تو کیا یہ جائز ہے ؟اور شریعت کیا کہتی ہے اس کے بارے میں ؟۔
نوٹ: وہ لڑکی صرف اس لڑکے کیساتھ نکاح کی خاطر اسلام قبول کر رہی ہے تو آیا اس کا یہ اسلام قابلِ قبول ہے کہ نہیں؟ اور اس کا اعتبار کرکے یہ مسلمان شمار ہوگی؟ کیونکہ یہ تو اللہ کی رضا کیلۓ مسلمان نہیں ہوئی، بلکہ ایک غرض کیلۓ ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ مذکور غرض کی خاطر اسلام قبول کرنے کی صورت میں اگر چہ اس کا اسلام معتبر ہوگا، مگر قبولِ اسلام جو’’ام الحسنات‘‘ ہے، اس کے اجر سے محرومی ہوگی، اس لئے مذکور خاتون کو چاہۓ کہ اسلام جیسی نعمت کے حصول میں اغراضِ فاسدہ اور خواہشاتِ نفسانیہ سے بچنے کی کوشش کرے، اب اگر قبولِ اسلام کے بعد اسی مذکور مسلمان لڑکے سے شادی ہونا طے پایا جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بلاشبہ جائز اور درست ہے ، تاہم قبولِ اسلام اور شادی سے قبل جتنا عرصہ باہم غیر محرم ہونے کے باوجود جو بے تکلفی اختیار کی گئی ہے،اس پر دونوں ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار کریں اور آئندہ کیلئے اس قسم کی ناجائز حرکات سے مکمل احتراز بھی کریں۔
لمافی"صحیح البخاری:"
عمر بن الخطاب -رضي الله عنه- على المنبر قال سمعت رسول الله – صلی اللہ علیه و سلم - يقول إنما الأعمال بالنيات و إنما لكل امرئ ما نوى فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه اھ (1/2)۔
و في"تحفة الأحوذي:"
( فهجرته إلى ما هاجر إليه ) أي منصرفة إلى الغرض الذي هاجر إليه فلا ثواب له لقوله تعالى من كان يريد حرث الاخرة نزد له في حرثه و من كان يريد حرث الدنيا نؤته منها و ما له في الاخرة من نصيب أو المعنى فهجرته مردودة أو قبيحة اھ(5/ 234)۔