جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اوقات صلوٰۃ کے منکر کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ اگر کوئی شخص اوقات صلوٰۃ کا منکرہو تو اس کا کیا حکم ہے؟۔
مطلب کہ مذکورہ شخص کا مؤقف یہ ہے، کہ پانچ نمازوں سے متعلق احادیث من گھڑت ہیں، اس کی کوئی حقیقت نہیں، بس کسی بھی وقت پانچ نمازیں پڑھ لو، یہ کافی ہے؟۔
واضح رہےکہ نماز کو اس کے مقررہ وقت پر پڑھنا قرآن کریم کی نصِ قطعی سے ثابت ہے، لہذا اگر کوئی شخص مطلقاً اوقاتِ صلوٰۃ کا منکر ہو کہ شریعت میں فرض نماز کے اوقات ہی مقرر نہیں، بلکہ جب چاہے پڑھ لے، تو ایسا شخص نصِ قطعی کے انکار کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہوگا۔
لمافی"القرآن کریم:"
"إِنَّ الصَّلاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَاباً مَوْقُوتاً" (سوره نساء: 103)
وفی"الھندیھ:"
"إذا أنكر الرجل آية من القرآن، أو تسخر بآية من القرآن وفي الخزانة، أو عاب كفر."
(کتاب السیر، الباب التاسع، ج: 2، ص: 266، ط: دار الفکر)