جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
رمضان میں مرنے والے کے عذاب میں تخفیف ہوتی ہے
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ رمضان میں اگر موت آئے تو کیا حکم ہے؟ رمضان میں مردوں کو عذاب ہوتا ہے، یا تخفیف ہوتی ہے عذاب میں؟۔
واضح رہے کہ بعض ضعیف روایات میں رمضان المبارک کے مہینہ میں انتقال کرنے والے شخص کے لئے تخفیفِ عذاب کاذکر آیا ہے، اسی بناپر علماء کرام نے یہ تفصیل بیان کی ہے کہ رمضان المبارک میں اگرکوئی مومن فرماں بردار شخص انتقال کرجائے،تو اسے قبر میں عذاب نہیں ہوتا ،اسی طرح گناہ گار مومن رمضان المبارک میں انتقال کرجائے،تو وہ بھی عذاب قبر سے محفوظ ہوگا۔اور اگر رمضان المبارک میں کوئی کافر مر جائے ،توماہِ رمضان کی برکت سے اسے اس مہینہ میں عذاب نہیں ہوتا، البتہ رمضان کامہینہ گزرنے کے بعداس پر عذاب ہوگا، البتہ عذابِ قبر کاختم ہوناقیامت تک ہے یاصرف رمضان المبارک تک؟تو اس بارے میں علماء کی دونوں طرح کی رائے ملتی ہے، راجح یہی معلوم ہوتاہے کہ قیامت تک کے لئے مومن سے عذاب ختم کر دیا جاتاہے اور یہی اللہ کی رحمت سے امید بھی ہے۔
لمافی"شرح الصدور:"
"وأخرج البيهقي قال إبن رجب روي بإسناد ضعيف عن أنس بن مالك أن عذاب القبر يرفع عن الموتى في شهر رمضان."
( ص:186، ط: دارالمعرفة)
وفی"الشامیھ:"
"(قوله ويأمن الميت من عذاب القبر إلخ) قال أهل السنة والجماعة: عذاب القبر حق وسؤال منكر ونكير وضغطة القبر حق لكن إن كان كافرا فعذابه يدوم إلى يوم القيامة ويرفع عنه يوم الجمعة وشهر رمضان فيعذب اللحم متصلا بالروح والروح متصلا بالجسم فيتألم الروح مع الجسد، وإن كان خارجا عنه، والمؤمن المطيع لا يعذب بل له ضغطة يجد هول ذلك وخوفه والعاصي يعذب ويضغط لكن ينقطع عنه العذاب يوم الجمعة وليلتها ثم لا يعود وإن مات يومها أو ليلتها يكون العذاب ساعة واحدة وضغطة القبر ثم يقطع، كذا في المعتقدات للشيخ أبي المعين النسفي الحنفي من حاشية الحنفي ملخصا."
(كتاب الصلاة، باب الجمعة، ج:1، ص:165، ط:سعيد)