جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
قرآنی آیات کو کٹوری یا برتنوں میں لکھوانا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ ہم لوگ سعودی عرب مال کا ایکسپورٹ کرتے ہیں اور اس میں کٹوری وغیرہ میں آیت قرآنی لکھ کر جاتی ہیں، لہذا اس طرح کی تجارت کسی حد تک جائز ہے؟۔
واضح رہے کہ قرآنی آیات کو کٹوری برتنوں وغیرہ میں
لکھوانے،چھپوانے میں مختلف وجوہ سے آیات قرآنیہ کی توہین اور حقارت لازم آتی ہے، مثلاً ایک آیت قرآنی چھونے اور پکڑنے کے لئے بھی وضوء کرنا فرض ہے، جب کہ مزدوروں اور کاریگروں سے اس کی احتیاط نہیں ہوتی اور بعض دفعہ پالش اور چھلائی کرتے وقت پیروں سے دباتے بھی ہیں جو قرآن کریم کی سخت اہانت ہے جو کہ حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور قرآنی آیات کو استعمالی آلات وغیرہ میں استعمال کی وجہ سے آہستہ آہستہ قرآن کی عظمت مسلمانوں کے دلوں سے نکلنا شروع ہو جائے گی لہذا اس کی تجارت اور ایکسپورٹ ہرگز جائز نہ ہوگی۔
لمافی"الشامیھ:"
تكره كتابة القرآن وأسماء الله تعالى على الدراهم إلى قوله)
وما ذلك إلا لاحترامه وخشية وطنه ونحوه مما فيه إهانة
(شامي، كتاب الصلوة . باب صلوة الجنازة، مطلب فيما يكتب على كفن الميت، ١٥٧/٣،
البحر الرائق، كتاب الصلوة، قبيل باب الوتر والنوافل ٣٧/٢
وفی"الطحطاوی:"
وكذا الوضوء فرض لمس المصحف، ولو آية مكتوبة على درهم
أو حائط . لقوله تعالى : لا يمسه إلا المطهرون الواقعه: ۷۹)
( حاشية الطحاوي على المراقي الفلاح، كتاب الطهارة، فصل في أوصاف الوضوء، مكتبة دار الكتاب ديوبند (۸۲)
وفی"جوہرة النيرة:"
وكذا لا يجوز له مس شيئ مكتوب فيه شيئ من القرآن من لوح
أو درهم، أو غير ذلك إذا كان آية تامة.
(الجوهرة النيره على مختصر القدوري، كتاب الطهارة، باب الحيض، مكتبة دار الكتاب ديوبند ٤٢/١ ، امدادية)