جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
تدفین کے بعد قبر پر موم بتی، اگر بتی جلانا اور قرآن کریم پڑھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ میرے گاؤں میں مردہ دفن کرنے کے بعد ایک حافظ قرآن پڑھتے ہیں اور میت میں شریک سب لوگ سنتے ہیں سبحان ربك رب العزة الخ پڑھ کر ختم کرتے ہیں اور سب لوگ دعاء مانگتے ہیں اور اگر بتی موم بتی جلاتے ہیں شریعت میں اس طرح کرنا کیسا ہے؟۔
واضح رہے کہ درج شدہ امور اور تلاوت قرآن کا یہ طریقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم وصحابہ کے زمانہ میں نہیں تھا اور نہ ہی ائمہ اربعہ سے اس کا ثبوت ہے، اس لئے یہ طریقہ نا جائز اور بدعت ہے، اس کا ترک واجب ہے۔
لمافی"الشامیھ:"
ويكره النوم عند القبر وقضاء الحاجة بل أولى وكل مالم يعهد من
السنة الخ.
(شامي كتاب الصلوة ، باب صلاة الجنازة ، مطلب في إهداء ثواب القرأة
للنبي صلى الله عليه وسلم زكريا ٣ / ١٥٤، کراچی (٢٤٥/٢)
وفی"مرقاة المفاتيح:"
والنهي عن اتخاذ السرج لما فيه من تضييع المال ، لأنه لا نفع لأحد
من السراج ولأنه من آثار جهنم وإما للاحتراز عن تعظيم القبور
(مرقاة، هل يجوز زيارة القبور للنساء أم لا ٢١٩/٢٤ ، رقم: ٧٤٠)