جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اٹھاؤنا رسم کا شرعی حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ ہمارے شہر پیپاڑسٹی میں قوم تیلیان میں میت کے گھر پر دفنانے کے بعد دو تین وقت کا میت کے گھر والوں کو کھانا کھلانے کے بعد مولوی صاحب ہاتھ اٹھا کر اجتماعی دعا کرواتے ہیں اور اس رسم کو ہمارے یہاں اٹھاؤنا کے نام سے منسوب کرتے ہیں اس کے بعد میت کے سسرال یا عورت
میت ہو تو اس کے میکے میں جا کر اسی طرح سے اجتماعی دعا کا بھی اہتمام کرتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ میت کے گھر والوں کے لئے کھانا بھیجنا حدیث سے ثابت ہے، لیکن کھانا بھیجنے کے بعد اجتماعی دعا کا ثبوت نہیں ہے ، لہذا اس سے احتراز کرنا چاہئے۔
لمافی"ابی داؤد:"
لما جاء نعى جعفر قال رسول الله صلى الله عليه وسلم اصنعوا لأل جعفر طعاماً فإنه أتاهم ما يشغلهم. (ابو داؤد كتاب الجنائز، باب صنعة الطعام لأهل
الميت ، النسخة الهنديه ٢ / ٤٤٧ ، دار السلام رقم: ۳۱۳۲)
وفی"الشامیھ:"
البدعة ما أحدث على خلاف الحق المتلقى عن رسول الله وجعل دينا قويماً صلى الله عليه وسلم من علم أو عمل وصراط مستقیما.
(شامي كتاب الصلوة ، باب الامامة ، كراچي ٥٦١/١،)