جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
حیلہ اسقاط کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ مروجہ اسقاط جائز ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ حیلہ اسقاط کو بعض فقہاءکرام نے ایسے شخص کے لئےتجویز فرمایا تھا جس کی کچھ نمازیں اور روزے وغیرہ فوت ہو گئے ہوں پھر قضا کرنے کا موقع نہ ملا اور موت کے وقت فدیہ کی وصیت تو کی ہو لیکن مرحوم نے اتنا ترکہ نہ چھوڑا ہو جس کے ایک تہائی سےاس کی تمام فوت شدہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کیا جا سکے ایسی صورت میں اگر ورثاء صاحب استطاعت ہوں تو بہتر یہ ہے کہ اپنے مال سے مرحوم کی نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا کردیں۔اور اگر ورثا کے پاس بھی گنجائش نہ ہو تو فقہاء نے حیلہ اسقاط کی گنجائش ذکر کی ہے جس کی صورت یہ ہے، کہ ورثاء فدیہ کی نیت سے کچھ رقم کسی غریب ونادار مستحق زکوٰۃ کو دے کر اس کو اس رقم کا اس طرح مالک بنا دیں کہ اگر وہ مستحق رقم واپس کرنے کی بجائے خود استعمال کر لے تو ورثاء کو کوئی اعتراض نہ ہو اور وہ مستحق شخص بھی یہ سمجھتا ہو کہ اگر میں یہ رقم مرحوم کے ورثا کو واپس نہ کروں تو انہیں واپس لینے کا اختیار نہیں ہے پھر وہ مستحق کسی قسم کے جبراور دباؤ کے بغیر اپنی خوشی سے وہ رقم ورثاء کو واپس کردے اور پھر ورثاء اسی مستحق کو یا کسی اور مستحق کو اسی طرح مذکورہ طریقے کے مطابق وہ رقم دے دیں اور وہ پھراپنی خوش دلی سے انہیں واپس کردے اس طرح باربار ورثاء یہ رقم کسی مستحق کو دیتے رہیں اور وہ اپنی خوشی ومرضی سے واپس کرتا رہے یہاں تک کہ مرحوم کی قضا شدہ نمازوں کے فدیہ کی مقدار ادا ہو جائے تو اس حیلے سے تھوڑی رقم سے سب نمازوں اور روزوں کا فدیہ ادا ہو جائے گا اور پھر وہ رقم سب سے آخر میں جس نادارومستحق شخص کو ملے گی وہی اس رقم کا مالک ہوگا اور اسے ہر طرح اس رقم کو خرچ کرنے کا اختیار ہوگا حاصل یہ ہے کہ اس مجوزہ حیلہ اسقاط میں جن شرائط کا پایا جانا ضروری ہے وہ درج ذیل ہیں:
(1)اگر میت نے فوت شدہ نمازوں سے متعلق فدیہ ادا کرنے کی وصیت کی ہو تو ثلث مال سے حیلہ اسقاط کیا جائے گا۔
(2) اگرمیت نے وصیت نہ کی ہو اور ورثاء ترکہ سے حیلہ اسقاط کرنا چاہیں تو یہ ضروری ہے کہ تمام ورثا بالغ ہو اور دل سے اس پر راضی ہوں ۔
(3) اگر کوئی نابالغ وارث ہو تو اس کے حصے میں سےحیلہ اسقاط کی رقم نہ لی جائے بلکہ جو بالغ ورثا یہ حیلہ کرنا چاہتےہیں وہ اپنے اپنے حصوں سے ادا کریں۔
(4) جس کو یہ مال دے رہے ہیں وہ مستحق ہو۔
(5) اس مستحق فقیر کو اس مال کامالک بنا کر اس پر قبضہ و اختیار دیا جائے۔
(6)جس فقیر کو دیا جائے وہ اپنی مرضی اور دلی رضامندی سے وہ مال میت کے ورثا کو ہبہ کرے اس پر کوئی زور زبردستی نہ کی جائے۔
چنانچہ اگر محررہ طریقہ اور مذکورہ شرائط کی روشنی میں حیلہ کیا جائے تو فقہاء کی تصریحات کے مطابق امید کی جاتی ہے کہ جان کی خلاصی کا ذریعہ بنے لیکن اس کو لازم جان کر بطور رسم و رواج ہرمردہ کے لئےحیلہ اسقاط کروانا زیادت علی الشرع کے مترادف ہے جس کی اجازت شریعت نہیں دیتی۔
لما فی"الدر مع الرد:"
(ولو مات وعليه صلوات فائته وأوصى بالكفارة يعطى لكل صلاة نصف صاع من بر) كالفطرة(وكذاحكم الوتر)والصوم،وإنمايعطى (من ثلث ماله)ولم يترك مالا يستقرض وارثه نصف صاع مثلا ويدفعه الفقير ثم يدفعه الفقير للوارث ثم وثم حتى يتم وقال ابن عابدين: ثم ينبغي بعد تمام ذلك كله أن يتصدق على الفقراء بشيء من ذلك المال أو بما أوصى به الميت إن كان ،اوصی۔ (كتاب الصلاة،باب قضاءالفوائت،ج2/ص532،دارالكتب العلميه)
وفی"الھندیھ:"
إذا أراد أن يؤدي الفدية عن صوم أبيه أو صلاته وهوفقير،فإنه يعطي منوين من الحنطة فقيرا،ثم يستوهبه،ثم يعطيه هكذا إلى أن يتم۔ (كتاب الحيل،الفصل الرابع فى الصوم،ج6/ص395، دارالفكر)
وفی"البحر الرائق:"
وإن لم يترك مالا تستقرض ورثته نصف صاع ويدفع إلى المسكين ثم يتصدق المسكين على بعض ورثته ثم يتصدق ثم وثم حتى يتم لكل صلاة ما ذكرنا ولو قضاها ورثته بأمره لايجوز وفى الحج يجوز۔(كتاب الصلاة،باب قضاءالفوئت،ج2/ص160)