جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مقتدی امام کے پیچھے نمازمیں کیا کرے
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ امام کے پیچھے مقتدی کیلئے نماز میں کیا پڑھنا چاہیےاور اگر اکیلے ہوں تو کیا پڑھنا چاہیے؟۔
واضح رہے کہ جماعت سے نماز پڑھنے کی صورت میں امام کے پیچھے مقتدی کے لئےحکم یہ ہے، کہ وہ خاموش کھڑا رہے ،مقتدی کے لئے کسی قسم کی قراءت کرنا خواہ وہ سورۂ فاتحہ ہو یا کوئی اور سورت ہو، جائز نہیں ہےاور یہ حکم سری اور جہری دونوں قسم کی نمازوں کا ہے،یعنی جہری نماز کی پہلی دورکعتوں میں جب قراءت کی آواز آرہی ہویا آخری دورکعتوں میں جب قراءت کی آواز نہ آرہی ہو،اسی طرح سری نماز کی تمام رکعات میں ؛ کیوں کہ امام مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہوتا ہے،یعنی امام کی قراءت مقتدی کے لئے کافی ہوتی ہے ،جیسےاگر امام کا وضو نہ ہو تو تمام مقتدیوں کی نماز ادا نہیں ہوگی اگرچہ تمام مقتدی باوضو ہوں، اسی طرح امام سے سہو ہوجائے توتمام مقتدیوں پر سجدۂ سہو لازم ہوتاہے، اگرچہ کسی مقتدی سے کوئی سہو نہ ہواوراس کے برعکس اگر تمام مقتدیوں سے بھی سجدۂ سہو واجب کرنے والی غلطی ہوجائے،لیکن امام سے نہ ہو تو مقتدیوں پر سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا، بلکہ امام کی نماز صحیح ہونے کی وجہ سے تمام مقتدیوں کی نماز بھی صحیح ہوجاتی ہے ۔
البتہ نماز کے دیگر ارکان مثلاً رکوع سجدے وغیرہ کی تسبیحات کو مقتدی اُسی طرح ادا کرے گا جس طرح جہری نمازوں میں ادا کرتا ہے۔
اورجو شخص تنہا(منفرد) نماز پڑھ رہا ہو ،جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھ رہا ہو تو اس کے لئے تمام نمازوں (فجر ،ظہر ،عصر، مغرب اور عشاء)کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی سورت پڑھنا واجب ہے،اور آخر کی رکعتوں میں صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا سنت ہے ،اگر سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی، تسبیحات پڑھ لیں یا خاموش کھڑا رہا تب بھی نماز درست ہوجائے گی۔
لمافی"سنن ابن ماجھ:"
’’حدثنا علي بن محمد، حدثنا عبيد الله بن موسى، عن الحسن ابن صالح، عن جابر، عن أبي الزبيرعن جابر قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: من كان له إمام، فإن قراءة الإمام له قراءة ‘‘.
(أبواب إقامة الصلوات والسنة فيها، باب: إذا قرأ الإمام فأنصتوا، 2 / 33، ط: دار الرسالة العالمية)
وفی"صحیح مسلم:"
"عن حطان بن عبد الله الرقاشي قال: صليت مع أبي موسي الأشعري فقال أبو موسى: أن رسول الله صلي الله عليه وسلم خطبنا، فبين لنا سنتنا و علمنا صلواتنا فقال: إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم؛ فإذا كبر فكبروا و إذا قرأ فأنصتواالحديث"
(كتاب الصلاة، باب التشهد في الصلاة، 1 / 303، ط: دار إحياء التراث )
وفی"الشامیھ:"
"(والمؤتم لا يقرأ مطلقا) ولا الفاتحة في السرية اتفاقا، وما نسب لمحمد ضعيف كما بسطه الكمال (فإن قرأ كره تحريما) وتصح في الأصح. وفي درر البحار عن مبسوط خواهر زاده أنها تفسد ويكون فاسقا، وهو مروي عن عدة من الصحابة فالمنع أحوط (بل يستمع) إذا جهر (وينصت) إذا أسر؛ لقول أبي هريرة - رضي الله عنه - كنا نقرأ خلف الإمام فنزل: {وإذا قرئ القرآن فاستمعوا له وأنصتوا}."
(كتاب الصلاة، فصل في القراءة،1 / 544، ط: سعيد)