جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
یا محمد یا رسول اللہ کہنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ یامحمد اور یا رسول اللہ کہنا کیسا ہے؟۔
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص یا محمد " اور " یا رسول اللہ “ کہتا ہے درود وسلام کے ساتھ یا بلادرود و سلام ،اس اعتقاد کے ساتھ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم میری آواز کو بذات خود ہر وقت ، ہر جگہ سنتے ہیں، یا یہ کہ بنفس نفیس خود مجلس درود میں تشریف فرما ہوتے ہیں، تو اس شخص کا یہ اعتقاد نا جائز ہی نہیں بلکہ موجب کفر ہے، اس لئے کہ یہ صورتیں غیر اللہ کے لئے علم غیب کو ثابت کرنے کو متضمن ہیں اور علم غیب اللہ تعالی شانہ کی صفت خاصہ ہے اور اگر یہ عقیدہ نہیں ہے،بلکہ محض تخیل کے طور پر شاعرانہ اور عاشقانہ انداز میں خطاب کرتا ہے، جیسا کہ اہل معانی و بلاغت نے بیان کیا ہے کہ بعض اوقات معدوم کو موجود فرض کر کے یا غیر حاضر کو حاضر فرض کر کے خطاب کیا جاتا ہے، تو یہ صورت فی ذاتہ بالا تفاق تمام علماء کے نزدیک جائز ہے۔
لمافي"شرح فقه الأكبر:"
وبالجملة فالعلم بالغيب أمر تفرد به سبحانه ولا سبيل إليه للعباد إلا
بإعلام منه وإلهام بطريق المعجزة أو الكرامة أو إرشاد إلى الاستدلال بالأمارات فيما يمكن فيه ذلك
. وذكر الحنفية تصريحاً بالتكفير باعتقاد أن النبي عليه الصلوة والسلام يعلم الغيب المعارضة
قوله تعالى: قل لا يعلم من في السموات والأرض الغيب إلا الله كذا في المسايرة
(ص ۱۸۵ ، الناس في حق رجال الغيب ثلاثة أحزاب، مكتبة أشرفي )
وفي"البزازية:"
وعلى هذا قال علمائنا من قال أرواح المشايخ حاضرة بكفر.
(الفتاوى البزازية على هامش الهندية ٣٢٦/٦ ، الثاني فيما يتعلق بالله تعالى)
وفی"التفسیر ابن کثیر:"
وقد ذكر أنها نزلت في الأقرع بن حابس رضي الله عنه نادى رسول الله صلى الله عليه وسلم
فقال : يا محمد ! وفي رواية : يا رسول الله ! فلم يحبه(358/3)