جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
غیر نبی کے نام کے ساتھ درودو سلام
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں!
کہ غیرانبیاء کے ساتھ درود وسلام لکھنا جائز ہے؟۔
واضح رہے کہ درود یا سلام صرف انبیاءو ملائکہ علیہم الصلوۃ والسلام کے ساتھ خاص ہے،ان کےعلاوہ کسی اور کے ساتھ مستقل طورپر”صلی اللہ علی فلاں“ یا”علیہ السلام“ پڑھنا یا لکھنا جائز نہیں گناہ کا کام ہے۔لہذا یاعلی علیہ السلام،یا حسن علیہ السلام،یا حسین علیہ السلام ،یا فاطمہ سلام اللہ علیہا لکھنا شرعا درست نہیں ہے۔بعض علماء نے اس کو جائز لکھا ہے لیکن صحیح یہی ہے،کہ یہ جائز نہیں ہے۔البتہ بالتبع غیرنبی کے ساتھ درودوسلام لکھنا جائز ہے جیسے حضرت امام حسین عَلیَ نَبِیِّنَا وعلیہ السلام لکھنا درست ہے۔
لمافی"الکنزالعمال
’’عن ابن عباس قال لا ینبغی الصلاۃ علی أحد إلا النبیین‘
( کتاب الاذکار،باب فی الصلاۃ علیھ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،2/392)
وفی"النبراس:"
’’ان ھذا فی عرف السلف من شعار الانبیاء فلزم التخصیص بھم کما لایجوز ان یقال فی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عزوجل وان کان عزیز جلیلا ‘‘
(7)
وفی"الردالمحتار:"
”اما السلام فنقل اللقانی فی شرح جوھرة التوحید عن الامام الجوینی انه فی معنی الصلوٰة فلا یستعمل فی الغائب ولا یفرد به غیر الانبیاء فلا یقال علی علیه السلام“
( 10 / 518)
وفی"الھندیۃ:"
’’ويكره أن يصلى على غير النبي صلى اللہ عليه وآله وأصحابه وحده فيقول: اللهم صل على فلان، ولو جمع في الصلاة بين النبي صلى اللہ عليه وآله وأصحابه وبين غيره فيقول: اللهم صل على محمد وعلى آله وأصحابه جاز، ‘‘
(1/315)