جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
فیروزہ پتھر پہننے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ فیروزہ پتھر پہننے کے بارے میں کیا حکم ہے؟۔
واضح رہے کہ مختلف قسم کے پتھر مثلاً: عقیق، فیروز، یاقوت وغیرہ سے متعلق یہ اعتقاد و یقین رکھنا کہ فلاں پتھر میری زندگی پراچھے اثرات ڈالتا ہے، یا اس سے روزی میں برکت ہوتی ہے، پتھروں کے متعلق ایسا عقیدے رکھنا ناجائز ہے، کیونکہ درحقیقت انسان کی زندگی پر اس کے اچھے اور برے اعمال اثر انداز ہوتے ہیں، لہذا پتھروں کو مؤثر سمجھنا شرک ہے۔
فیروزہ پتھر کو سبائیوں نے متبرک پتھر کی حیثیت سے پیش کیا تھا کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قاتل کا نام فیروز تھا، لہذا اگر کوئی ان پتھروں کی تاثیر کا اعتقاد رکھ کر پہنے تو یہ حرام اور ایک طرح کا شرک ہے اور اگر یہ اعتقاد نہ ہو تو اس کے پہننے کی گنجائش ہے۔
لمافی"صحیح مسلم:"
عن عبد الله بن سرجس قال: رأيت الأصلع -يعنى عمر بن الخطاب - يقبل الحجر، ويقول: والله إنى لأقبلك وإنى أعلم أنك حجر، وأنك لاتضر ولاتنفع، ولولا أنى رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم قبلك ما قبلتك".(باب استحباب تقبیل الحجرالاءسودفی الطواف925/2)
وفی"الشرح النووی:"
"وأما قول عمر رضي الله عنه: لقد علمت أنك حجر وأنى لأعلم أنك حجر، وأنت لاتضر ولاتنفع، فأراد به بيان الحث على الاقتداء برسول الله صلى الله عليه وسلم في تقبيله ونبه على أنه أولا الاقتداء به لما فعله، وإنما قال: وأنك لاتضر ولاتنفع؛ لئلايغتر بعض قريبى العهد بالاسلام الذين كانوا ألفوا عبادة الأحجار وتعظيماً ورجاء نفعها وخوف الضر بالتقصير في تعظيمها، وكان العهد قريباً بذلك، فخاف عمر رضي الله عنه أن يراه بعضهم يقبله ويعتنى به فيشتبه عليه، فبين أنه لايضر ولاينفع بذاته، وإن كان امتثال ما شرع فيه ينفع بالجزاء والثواب، فمعناه أنه لا قدرة له على نفع ولا ضر، وأنه حجر مخلوق كباقي المخلوقات التي لاتضر ولاتنفع، وأشاع عمر هذا في الموسم ليشهد في البلدان ويحفظه عنه أهل الموسم المختلفوا الأوطان والله أعلم".(باب استحباب تقبيل الحجر الأسودفی الطواف 413/1)
وفی"الدر المختار:"
(والعبرة بالحلقة) من الفضة (لا بالفص) فيجوز من حجر وعقيق وياقوت وغيرها وحل مسمار الذهب في حجر الفص(360/6)
وفی"الھندیھ
ثم الحلقة في الخاتم هي المعتبرة؛ لأن قوام الخاتم بها، ولا معتبر بالفص حتى أنه يجوز أن يكون حجرا أو غيره(335/5)