جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
کرایہ پر رکھا ہوا چیز ہلاک ہونے کی صورت میں ضمان کا حکم کیا ہے
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ اگرکوئی شخص کسی دوسرے شخص کوکرایہ پر کچھ سامان دےاوراس شخص سےوہ سامان ہلاک ہوجائےتوایسی صورت میں کرایہ دارپر کرایہ اورتاوان دونوں آئیں گے یا کہ صرف تاوان لازم ہوگا؟۔
واضح رہے کہ اگر وہ چیز کرایہ دار
کےمجازاورمعتاد استعمال کے بعد یا اس سے استعمال کےدوران ضائع ہوئی ہو،لیکن اس چیز کے ضائع ہونے میں کرایہ دار کے تعدی (زیادتی،کوتاہی اور غفلت )یا اس کےغیرمجازوغیرمعتاد عمل یا استعمال کا دخل نہ ہوتو ایسی صورت میں صرف مدت استعمال کے بقدر کرایہ لازم ہوگا اور اگر اس کے ضائع ہونے میں کرایہ دار کی زیادتی ،غفلت ،کوتاہی یا غیرمجازوغیرمعتاد عمل یااستعمال کا دخل بھی ہو تو ایسی صورت میں بقدر مدت استعمال کرایہ کے علاوہ تاوان بھی لازم ہوگا۔
لمافی"المجلة الأحكام العدلية:"
المأجور أمانة في يد المستأجر إن كان عقد الإجارة صحيحا أو لم يكن
(المادہ600)
لا يلزم الضمان إذا تلف المأجور في يد المستأجر ما لم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالفته لمأذونيته.
(المادہ601)
يلزم الضمان على المستأجر لو تلف المأجور أو طرأ على قيمته نقصان بتعديه. مثلا لو ضرب المستأجر دابة الكراء فماتت منه أو ساقها بعنف وشدة هلكت لزمه ضمان قيمتها.
(المادہ602)
حركة المستأجر على خلاف المعتاد تعد ويضمن الضرر والخسارة التي تتولد معها مثلا لو استعمل الثياب التي استكراها على خلاف عادة الناس وبليت يضمن كذلك لو احترقت الدار المأجورة بظهور حريق فيها بسبب إشعال المستأجر النار أزيد من الناس يضمن.
(المادہ603)