جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
چچا اور ماموں کے درمیان حق ولایت کے حقدار کون ہے
کیافرماتےہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ میری بھائی کی بیٹی ہے،جوکہ بالغہ ہے اور اس کے والدین اور داداوغیر ہ سب فوت ہو چکے ہیں صرف دو ماموں اور ایک بھائی زندہ ہے۔ اس لڑکی کی شادی و غیرہ جیسے مسائل کے حقدار کون ہیں
ماموں یا چچااور شرعااس کی رہائش کس کے ذمےہو گی؟۔
واضح رہے کہ لڑکی جب عاقلہ بالغہ ہو، تو نکاح وغیرہ کے معاملات میں خود مختار ہوتی ہے،وہ جس کو بھی اپنے نکاح کرانے کااختیار دے، وہ اس کا نکاح کروا سکتا ہے، تا ہم جوان لڑکی کے لئے اولیاء کی رضامندی کے مطابق نکاح کرنا بہتر اور مستحسن ہے ۔ نکاح میں ولی عصبہ بنفسہ ہوتے ہیں، یعنی (باپ، بیٹا، بھائی اور چچا)و غیرہ ہو پھر ان میں سے قریب کے ہوتے ہوئے بعید کو ولایت نہیں رہتی۔
صورت مسئولہ میں اس بالغہ لڑکی کو اپنے نکاح کرانے کا اختیار خود حاصل ہے،کوئی بھی فرد اس پر زبر دستی نہیں کر سکتا۔ البتہ اگر لڑکی کے اولیا فوت ہو گئے ہوں تو خاندان کے دیگر افراد کے مشورے سے نکاح کرنازیادہ بہتر ہے، نیزرہائش اختیار کرنے میں بھی یہ لڑکی خود مختار ہے ، جہاں رہنا چاہتی ہے رہ سکتی ہے اور خرچ اس کے اپنے مال سے ہو گا۔
لمافی"البحرائق:"
ولا تجبر بكر بالغة على النكاح
(كتاب النکاح، باب الأولياء والأکفاء في النكاح،3 /318)
وفی"الدرمع الرد:"
الولي في النكاح العصبة بنفسه
( كتاب النكاح، باب الولي،:3 :5)
وفی"الشامیھ:"
(ولاية ندب) أي يستحب للمرأة تفويض أمرها إلى وليها كي لا تنسب إلى الوقاحة
(كتاب النكاح، باب الولی،:3 : 55)