جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسجد میں ایسی کتابوں کا پڑھنا جن میں تصویریں ہوں
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ بعض طلبہ اپنے اسباق یاد کرنے کے لئے مسجدوں میں آ جاتے ہیں اور ان کی کتابیں بھی ان کے پاس ہوتی ہیں تو کیا ان کے لئے یہ درست ہے، خصوصا اس صورت میں جب نصابی کتابوں میں انسانوں اور حیوانوں کی تصویریں بھی طبع ہوتی ہیں؟۔
واضح رہے کہ مسجدوں میں پڑھنے اور اسباق یاد کرنے میں کوئی حرج نہیں لیکن واجب ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے گھروں کو ایذاء اور آوازوں کے شور سے پاک رکھا جائے اور ایسے کم عقل اور چھوٹے بچوں کو مسجد میں نہ آنے دیا جائے جو مسجد کے قالینوں، قرآن مجید کے نسخوں اور در ودیوار کا احترام نہ کریں۔ اگر ایذاء کی صورت نہ ہو تو مسجد میں اسباق یاد کرنے میں کوئی حرج نہیں، ہاں البتہ ایسے نصابی مواد اور مجلات وغیرہ کو مسجد میں لانا جائز نہیں جن میں جانداروں کی تصویریں بنی ہوں تاکہ اللہ کے گھروں کے تقدس اور احترام کے پیش نظر انہیں ان تصویروں سے پاک رکھا جائے جن سے فرشتے دور بھاگتے ہیں لہذا طلبہ کو چاہیے کہ وہ تصویروں والی کتابیں ساتھ نہ لائیں یا پھر جانداروں کی تصویریں یا ان کے سر وغیرہ مٹا دیں اور انہیں اس طرح کر دیں کہ جس سے زندگی ختم ہو جاتی ہے۔
لمافی"السنن الترمذي:"
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " تخرج عنق من النار يوم القيامة لها عينان تبصران وأذنان تسمعان ولسان ينطق، يقول: إني وكلت بثلاثة، بكل جبار عنيد، وبكل من دعا مع الله إلها آخر، وبالمصورين۔(701/4)