جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مسلسل خون بہنے کی صورت میں کپڑوں اور وضوءکا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ اگر کسی شخص کے کمر میں پھوڑا ہوگیا ہو جس سے دوا لگانے کے باوجود تھوڑی مقدار میں مسلسل خون نکل رہا ہو، جو بھی لباس پہنے کمر کے حصے پر وہ خون آلودہ ہوجاتا ہے، بار بار پانی سے صاف کرنے سے زخم خراب ہونے کا اندیشہ ہے، ایسی صورت میں پاکی کا اہتمام کیسے کیا جائے، کیا ایک ہی لباس میں پورا دن گزارا جاسکتا ہے اور کیا ہر نماز سے پہلے وضوء کرنا ضروری ہےاور زخم کی صفائی بھی کرنی ہوگی؟۔
واضح رہے، کہ اگر کسی شخص کے زخم سے مسلسل خون بہتا ہو اور وہ جب بھی کپڑے بدلے، ناپاک ہوجاتے ہوں تو اس کے کپڑوں کی پاکی کا حکم یہ ہے، کہ اگر اس کو یقین ہو کہ کپڑے دھونے کے بعد نماز سے فارغ ہونے سے پہلے کپڑے دوبارہ ناپاک نہیں ہوں گے تو کپڑے کے اس ناپاک حصے کو دھونا ضروری ہےاور اگر نماز سے فارغ ہونے سے پہلے دوبارہ ناپاک ہونے کا یقین ہو تو اس کا دھونا ضروری نہیں ہے۔ اسی طرح اگر پانی یا دوسری چیزوں سے زخم صاف کرنے کی وجہ سے زخم کے خراب ہونے کا اندیشہ ہو تو صرف وضوء کرلیا جائے اور زخم خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو پہلے زخم کے اردگرد لگے ہوئے خون کو صاف کیا جائے، پھر وضوءکرے -
لمافی"الھندیھ:"
إذا كان به جرح سائل وقد شد عليه خرقة فأصابها الدم أكثر من قدر الدم أو أصاب ثوبه إن كان بحال لو غسله يتنجس ثانيا قبل الفراغ من الصلاة جاز أن لا يغسله وصلى قبل أن يغسله وإلا فلا هذا هو المختار هكذا في المضمرات۔۔۔۔رجل رعف أو سال عن جرحه الدم ينتظر آخر الوقت فإن لم ينقطع توضأ وصلى قبل أن يغسله قبل خروج الوقت كذا في الذخيرة.(41/1)
وفی"الدر المختار:"
(وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، (306/1)