جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
طلاق دے دوں گا کہنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
اگر تو نے فلاں بندے سے فون پر بات کی تو میں تجھے طلاق دوں گا "اگر بیوی نے اس بندے سے فون پر بات کی تو مذکورہ بالا الفاظ سے کون سی طلاق واقع ہوگی؟کیا یہ طلاق معلق کے الفاظ ہیں؟۔
واضح رہے کہ صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ عورت کے شوہر نے اس سے یہ کہا تھا کہ اگر تو نے فلاں کام کیا تو میں تجھے طلاق دوں گا "تو اس صورت میں عورت اگر مذکورہ کام کرلے توبھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی، کیوں کہ مذکورہ جملہ مستقبل میں طلاق دینے کی دھمکی ہےاور طلاق دینے کی دھمکی سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
لمافی"الھندیھ:"
في المحيط لو قال بالعربية أطلق لا يكون طلاقا إلا إذا غلب استعماله للحال فيكون طلاقا."
( كتاب الطلاق، الباب الثاني في إيقاع الطلاق، الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية، 1 / 384، ط: دار الفكر)
وفي"تنقيح الفتاوى:"
صيغة المضارع لا يقع بها الطلاق إلا إذا غلب في الحال كما صرح به الكمال بن الهمام."
( كتاب الطلاق، 1 / 38، ط: دار المعرفة)