جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
نماز میں سورتوں کو خلاف ترتیب پڑھنے کا حکم کیا ہے؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ کیا نماز اور غیر نماز میں تلاوت کرنے کے دوران سورتوں کو مدِنظر رکھنا ضروری ہے، جیسے کہ اگر ہم نے سورۃ الفیل پڑھی، اس کے بعد سورۃ الاخلاص بسم اللہ کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں؟ کیا ایسا ہے کہ پہلے ہم سورۃ الاخلاص پڑھ لیں پھر سورۃ الفیل پڑھ لیں، تو کیا اس میں کوئی مضائقہ ہے؟-
واضح رہے کہ فرض نمازوں میں قرأت کے دوران سورتوں کی ترتیب کی رعایت رکھنا واجب ہے اور قصداً قرآن مجید کی ترتیب کے خلاف قرأت کرنا مکروہِ تحریمی ہے، یعنی جو سورت بعد میں ہے اس کو پہلی رکعت میں پڑھنا اور جو سورت پہلے ہے اس کو دوسری رکعت میں پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے ،مثلاً پہلی رکعت میں سورۃ کافرون اور دوسری رکعت میں سورۃ کوثر پڑھی گئی، تو قصداً پڑھنے کی صورت میں کراہیت کے ساتھ نماز ادا ہو جائے گی اور اگر سہواً یا غلطی سے ترتیب کے خلاف پڑھا تو نماز بلا کراہت درست ہو جائے گی، لیکن دونوں صورتوں میں سے کسی میں بھی سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا ۔
نفل نماز اور نماز سے باہر کی جانے والی تلاوت میں قصداً قرآن مجید کی ترتیب کے خلاف قرأت کرنا مکروہ نہیں ہے، تاہم ترتیب سے پڑھنا بہتر ہے۔
لمافی"الدر المختار:"
ويكره الفصل بسورة قصيرة وأن يقرأ منكوساً، إلا إذا ختم فيقرأ من البقرة. وفي القنية: قرأ في الأولى "الكافرون" وفي الثانية "ألم تر" أو " تبت" ، ثم ذكر يتم، وقيل: يقطع ويبدأ، ولا يكره في النفل شيء من ذلك2/345