جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
گانا سننااور سروز یا باجا کو جائز سمجھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ گانے سننااور سروز یا باجے کو جائز سمجھنا کیسا ہے؟۔
واضح رہےکہ موسیقی، گانا بجانا اور سننا شریعت میں حرام ہے۔
لمافی"القران الکریم:"
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ﴾ [ لقمان : 6 ]
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ قسم کھا کر فرماتے تھے کہ "لهو الحدیث"سے مراد گانا ہے، یہی تفسیر حضرت عبد اللہ بن عباس، حضرت جابر رضی اللہ عنہم ، حضرت عکرمہ، سعید بن جبیر، مجاہد ، مکحول ، حسن بصری اورعمرو بن شعیب رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر حضرات سے منقول ہے۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : گانا دل میں نفاق کو اس طرح پیدا کرتا ہے جیسے پانی کھیتی کو اگاتا ہے۔
حضرت نافع سے روایت ہے کہ میں ایک جگہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جارہا تھا، انہوں نے بانسری کی آواز سنی تو اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور راستے سے ایک طرف ہوکر چلنے لگے، دور ہوجانے کے بعد مجھ سے کہا:اے نافع کیا تم کچھ سن رہے ہو؟ میں نے کہا : نہیں، انہوں نے کان سے انگلیاں نکالیں اور فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ جارہا تھا،نبی کریم ﷺ نے بانسری کی آواز سنی اور ایسے ہی کیا جیسا میں نے کیا۔
ان دلائل سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ گانا سننے کو جائز سمجھنا حرام ہے ؛ لہذا ایسا شخص فاسق فاجر ہے، اگر کسی بنا پر گانے سننے کو جائز سمجھتا ہے تو اسے چاہیے کہ کسی مستند عالم کے سامنے وہ باتیں پیش کرکے ان سے تشفی کرلے۔