جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
چارپائی پر نماز پڑھنے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ چارپائی پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟۔
واضح رہے کہ نماز کے صحیح ہونے کے لئے منجملھ شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نمازی ایسی ٹھوس چیز پر سجدہ کرے جس چیز پر نمازی کی پیشانی ایک مقام پر جا کر رُک جائے اور مزید دبانے سے نیچے نہ جائے، لہذا اگر چارپائی خوب کسی ہوئی ہو کہ آدمی سجدے میں جائے تو سر نیچے نہ دھنسے تو نماز جائز ہے اور اگر مزید دھنستی ہو تو نماز جائز نہیں ہو گی۔
لمافی"الشامی":
"يفترض أن يسجد على ما يجد حجمه بحيث إن الساجد لو بالغ لا يتسفل رأسه أبلغ مما كان عليه حال الوضع، فلا يصح على نحو الأرز والذرة، إلا أن يكون في نحو جوالق، ولا على نحو القطن والثلج والفرش إلا إن وجد حجم الأرض بكبسه"۔
(کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، : 1،: 454، :
وفی"الھندیھ":
"ولو سجد على الحشيش أو التبن أو على القطن أو الطنفسة أو الثلج إن استقرت جبهته وأنفه ويجد حجمه يجوز وإن لم تستقر لا۔"
، الباب الرابع، الفصل الاول، :1: 70، طبع: دار الفکر)