جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
اسمگل شدہ اشیاء کی خرید وفروخت کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ آج کل لوگ کاروبار میں کپڑے، موبائلز، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء کو باہر ممالک سے اسمگلنگ کے ذریعے لا کر خرید وفروخت کا کاروبار کرتے ہیں،حالاں کہ ایک طرف یہ حلال کاروبار ہے اور دوسری طرف ملکی حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ہے،یہ کاروبار بہت عام ہوا ہے، ہر جگہ آپ کو غیر ملکی اور اسمگل شدہ اشیاء ملتے ہیں،میرا سوال یہ ہے کہ غیر ملکی اشیاء کو حکومتی اجازت کے بغیر اسمگل کر کے خرید وفروخت کا کاروبار کرنا شرعاً کیسا ہے؟۔
واضح رہے کہ اپنے ملک کے قوانین کی خلاف ورزی سے بچنا سب پر لازم ہے، کیوں کہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈالنے کی شریعت میں اجازت نہیں ہے، مگر جو شخص کسی ملک میں اس ملک کے قوانین کی خلاف ورزی کر کے کوئی چیز خرید کر لاتا ہے، تو اس کے لئے وہ حلال ہے، بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو، لہٰذا صورت مسئولہ میں غیر ملکی اشیاء کی اسمگلنگ کرنا اور پھر اس کی خرید وفروخت کرنا درست نہیں، کیوں کہ یہ حکومت کے قانون کی خلاف ورزی اور نقض عہد ہے، البتہ آمدنی حلال ہے۔
لمافی"القران":
﴿ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة﴾. (البقرة: 195)
وفی"شرح مجلة":
«كل يتصرف في ملكه كيفما شاء، لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال». (الفصل الأول: في بيان بعض القواعد المتعلقة بأحكام الأملاك، رقم المادة: (1192)
وفيه أيضًا:
«لا يمنع أحد من التصرف في ملكه ما لم يكن فيه ضرر فاحش للغير». (رقم المادة: 1197، 3/199،)
وفي:تكملة فتح الملهم":
«إن المسلم يجب عليه أن يطيع أميره في الأمور المباحة، فإن أمر الأمير، بفعل مباح، وجبت مباشرته، وإن نهى عن أمر مباح، حرم
إرتكابه،..... ومن هنا صرّح الفقهاء بأن طاعة الإمام فيما ليس بمعصية واجب». (كتاب الإمارة، باب وجوب طاعة الأمراء في غير معصية وتحريمها في المعصية، (3/363)