جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
شیشہ کی سامنے نماز پڑھنے سے نماز میں خلل واقع ہوتا ہے یا نہیں؟
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
بعض مساجد میں کھڑکیوں اور دروازوں کے شیشے اس قسم کے ہوتے ہیں، جس میں نمازی کو اپنا عکس واضح نظر آتا ہے، کیا اس طرح اس کے سامنے نماز پڑھنے سے نماز ادا ہو جائے گی یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ اگر نمازی کے سامنے الماری، کھڑکی یا دیوار میں شیشے لگے ہوئے ہیں اور اس میں نمازی کا عکس نظر آتا ہے توایسی صورت میں بلا کراہت نماز ہوجائے گی، کیوں کہ عکس تصویر کے حکم میں نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر اس کی وجہ سے نمازی کی توجہ ہٹ جاتی ہے، یکسوئی اور خشوع وخضوع میں خلل واقع ہوتا ہے تو ایسی صورت میں شیشے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہِ تنزیہی ہوگا، ایسی صورت میں نماز پڑھتے وقت شیشے پر کپڑا وغیرہ ڈال دیا جائے۔
لمافی"الشامی":
"(تتمة) بقي في المكروهات أشياء أخر ذكرها في المنية ونور الإيضاح وغيرهما: منها الصلاة بحضرة ما يشغل البال ويخل بالخشوع كزينة ولهو ولعب، وذلك كرهت بحضرة طعام تميل إليه نفسه وسيأتي في كتاب الحج قبيل باب القرآن يكره للمصلي جعل نحو نعله خلفه لشغل قلبه".
(كتاب الصلاة، باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها، فروع اشتمال الصلاة على الصماء والاعتبجار، 1/ 654 ط: سعيد)