جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
گناہ کی کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ اگر کوئی شخص گناہ کی کام شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کہے تو کیا حکم ہے؟۔
واضح رہے کہ کسی حرام کام کے شروع میں بسم اللہ کو حلال سمجھ کر یا بطورِ استہزاء و تحقیر کےپڑھنا کفریہ عمل ہے اور فقہاءِ کرام کی تصریحات کے مطابق ایسا شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں گناہ کرنا ایک الگ جرم ہے، لیکن جان بوجھ کر بسم اللہ کو حلال سمجھتے ہوئے یا بطورِ استہزاء کے پڑھے تو شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہونے کے ساتھ وہ شخص دائرۂ اسلام سے خارج ہو جائے گا۔
البتہ اگر مسئلہ سےلاعلمی کی وجہ سے ہر کام کے شروع میں بسم اللہ پڑھنے کو مسنون سمجھتے ہوئے یہاں بھی بسم اللہ کہہ دے تو اس پر کفر کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔
لمافی"الفتاوىٰ الهندية":
: من أكل طعاما حراما ، و قال عند الأكل بسم الله حكى الإمام المعروف بمشتملي أنه يكفر ، و لو قال عند الفراغ الحمد لله قال بعض المتأخرين لا يكفر۔ اھ (2/ 273)۔
و فیہ ایضاً
و الاتفاق علی انه ان امسک القدح و قال بسم الله و شربه یصیر کافرا و ھکذا ان بسمل وقت مباشرة الزنی أو حال لعب القمار عند إمساک الکعبین فإنه یصیر کافرا کذا فی الفصول العمادیة۔اھ (2/ 273)۔
و فیہ ایضاً
من إعتقد الحرام حلالا ، أو على القلب يكفر أما لو قال لحرام هذا حلال لترويج السلعة ، أو بحكم الجهل لا يكون كفرا۔اھ (2/ 272)۔
وفیہ ایضاً
:إذا أطلق الرجل كلمة الكفر عمداً لكنه لم يعتقد الكفر قال بعض أصحابنا لا يكفر و قال بعضهم يكفر ، و هو الصحيح عندي كذا في البحر الرائق۔اھ(2/ 276)۔
وفی"البحر الرائق":
: و في الخلاصة و غيرها إذا كان في المسألة وجوه توجب التكفير و وجه واحد يمنع التكفير فعلى المفتي أن يميل إلى الوجه الذي يمنع التكفير تحسينا للظن بالمسلم زاد في البزازية إلا إذا صرح بإرادة موجب الكفر فلا ينفعه التأويل حينئذ و في التتارخانية لا يكفر بالمحتمل لأن الكفر نهاية في العقوبة فيستدعي نهاية في الجناية و مع الاحتمال لا نهاية۔اهـ (5/ 134)۔