جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
پیکج کرنے پر دوکان دار کا کسٹمر سے اضافی رقم لینے کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ موبائل پیکج پردس (10) روپے اضافی لیناکیسا ہے؟ مثلاً ایک شخص زونگ ڈیٹا پیکج لگوانا چاہتا ہے، جوکہ ایک سو نوے (190) روپے کا ہے، لیکن دوکان والا ان سے دوسو (200) روپے چارج کرتا ہے، اس نیت سے کہ کمپنی بچت کم دیتی ہے؛ لہٰذا اضافی دس (10) روپے چارج کر رہے ہیں، دوکان والے کے لئے کیا حکم ہے؟۔
واضح رہے کہ اگرکمپنی نے دوکان دار کو مختلف پیکجز کرانے پر کسٹمر سے اضافی چارجز لینے سے منع کیا ہے، تو دوکاندار کے لئے کسٹمر سے مزید پیسے لینا شرعاً جائز نہیں ہے،البتہ اگر کمپنی کی طرف سے کسٹمر سے مزید چارجز فیس لینے پرکوئی پابندی نہیں ہے، تو دوکان دار کے لئے کسٹمر سے مزید رقم لینے کی کنجائش ہے۔
لمافی"الشامیھ":
: وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعوا عليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم. وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدًا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة."
(مطلب في أجرة الدلال، :6/63ط:ايج سعيد)