جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
مالِ مشترک میں دوسرے شریک کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ کیا مالِ مشترک میں سے دوسرے شراکت دار کی اجازت کے بغیر تصرف کرناجائز ہے؟۔
واضح رہے کہ مالِ مشترک میں سے ایک شریک کا دوسرے شریک کے حصے میں اس کی اجازت ورضامندی کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں ہے۔
لمافی"الھندیھ":
"و لايجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بأمره، وكل واحد منهما كالأجنبي في نصيب صاحبه."
( 301/2،كتاب الشركة ، الباب الأول في بيان أنواع الشركة وأركانها وشرائطها وأحكامها، الفصل الأول في بيان أنواع الشركة، ط: رشیدیۃ)
وفی"فتاوی شامیھ":
" (وكل) من شركاء الملك (أجنبي) في الإمتناع عن تصرف مضر (في مال صاحبه) لعدم تضمنها الوكالة."
(الفتاوی الشامي، کتاب الشرکة، :4/300 ط: سعید)