جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بیوی کی سوتیلی ماں سے نکاح کرنا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ زید نےدو شادیاں کی تھیں،ایک بیوی کا نام عائشہ ہے اور دوسری بیوی کا نام زینب ہے، عائشہ کے بطن سے زید کی ایک بیٹی فاطمہ ہے، اور فاطمہ کا نکاح خالد سے ہواہے، اب زید فوت ہواہے اور خالد نے زید کی بیوی زینب سے نکاح کرلیا ہے ، کیا خالد کے لئے یہ نکاح کرنا جائز ہے؟۔
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی رو سے ان دو عورتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں جن میں سےایک عورت کو اگر مرد فرض کرلیا جائےتو دوسری کے ساتھ اس کا نکاح جائز نہ ہو، اسی طرح دوسری عورت کو اگرمرد فرض کرلیا جائے،توپہلی کے ساتھ اس کانکاح جائز نہ ہو، لیکن اگر ایک صورت میں نکاح جائزنہ ہو، اور دوسری صورت میں جائزہو،تو ایسی دو عورتوں کو ایک نکاح میں جمع کرنا جائز ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق اگر زینب کو مرد فرض کرلیا جائے،تو اس صورت میں فاطمہ، زینب کےلئے اجنبی اور غیرمحرم شمار ہو گی اوران کا نکاح جائز ہوگا، لہذا اگرخالدنے اپنی بیوی فاطمہ کی سوتیلی ماں زینب کے ساتھ نکاح کرکے دونوں کو نکاح میں جمع کیا ہو تو یہ جائز ہے۔
لمافی"الھدایھ":
ولا يجمع بين امرأتين لو كانت إحداهما رجلا لم يجز له أن يتزوج بالأخرى …ولا بأس بأن يجمع بين امرأة وبنت زوج كان لها من قبل لأنه لا قرابة بينهما ولا رضاع …قلنا امرأة الأب لو صورتها ذكرا جاز له التزوج بهذه والشرط أن يصور ذلك من كل جانب ۔(الهداية، كتاب النكاح، فصل في بيان المحرمات، :3، :13)
وفی"البحرالرائق":
وقيد بقوله:(أية فرضت)لأنه لو جاز نكاح إحداهما على تقدير مثل المرأة وبنت زوجها أو امرأة ابنها فإنه يجوز الجمع بينهما عند الأئمة الأربعة وقد جمع عبد الله بن جعفر بين زوجة علي وبنته ولم ينكر عليه أحد۔(البحرالرائق، كتاب النكاح، فصل في المحرمات،173/3
وفی"بدائع الصنائع":
"معنى قوله تعالى:{وأحل لكم ما وراء ذلكم} أي : ما وراء ما حرمه الله تعالى و يجوز الجمع بين امرأة و بنت زوج كان لها من قبل، أو بين امرأة و زوجة كانت لأبيها و هما واحد؛ لأنه لا رحم بينهما فلم يوجد الجمع بين ذواتي رحم."
(فصل أنواع الجمع بين ذوات الأرحام منه جمع في النكاح، 2، :263،