جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
بھینس کی قربانی
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ بھینس اور بھینسےکی قربانی کرنا جائز ہے یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ بھینس اور بھینسے کی قربانی کرنا،بلاشبہ جائز ہے،اس میں شرعی طور پر کوئی حرج نہیں ،کیونکہ بھینس ،گائے ہی کی جنس میں سے ہے،توجس طرح گائے کی قربانی کرنا،جائز ہے،اسی طرح بھینس کی قربانی کرنا بھی جائز ہے اور یہ بات قرآن وحدیث ،اجماعِ علما، مفسّرین ،محدثین اور ائمۂ مجتہدین کےاقوال سے ثابت ہے۔
وفی"سننِ ابو داؤد":
عن جابر بن عبد اللہ، أن النبي صلى اللہ عليه وسلم قال:البقرة عن سبعة، والجزور عن سبعة
(سننِ ابو داؤد ،کتاب الضحايا ،باب فی البقر والجزور عن کم تجزی ،جلد2 -40 ،مطبوعہ لاھور)
وفی"مسندالفردوس":
الجاموس تجزی عن سبعة فی الأضحیہ
جلد 2 ،صفحھ124
وفی"مصنّف ابنِ ابی شیبہ":
” عن الحسن انّہ کان یقول : الجوامیس بمنزلہ البقر
(مصنف ابن ابی شیبھ ،جلد4،صفحہ، 357رقم:10839
وفی"مؤطا امام مالك":
انّما ھی بقر کلّھا
(مؤطا امامِ مالک ،کتاب الزکوٰۃ ،ماجاء فی صدقۃ البقر 294 )
وفی"فتاوی قاضی خان":
”الاضحیۃ تجوز من اربع من الحیوان الضان والمعز والبقر والابل ذکورھا واناثھا وکذلک الجاموس لانّہ نوع من البقرالاھلی
(فتاویٰ قاضی خان ،کتاب الاضحیۃ ،فصل فیما یجوز فی الضحایا 3،348 )