جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
موت کی تمنا کرنے والا کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ کیا موت کی تمنا کرنا جائز ہے اگر نہیں تو امام بخاری نے کیوں کی؟۔
واضح رہے کہ مصیبت ، بیماری، تنگ دستی، مصائب،آفات اور ہر طرح کی دنیاوی پریشانیوں سے تنگ آکر موت کی تمنا کرنا شرعاً جائز نہیں ہے؛ کیوں کہ بیماری وصحت ، مصیبت وراحت، انسانی زندگی کا لازمہ ہےاور یہ سب تقدیر کا حصہ ہےاور اس پر صبر کرنا،صبر کی قسموں میں داخل ہے،جس کے بدلہ اُسے اللہ پاک کی خوشنودی، اُس کی نیکیوں میں اضافہ اور آخرت میں درجات کی بلندی ملا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا اُس مصیبت کی وجہ سے نہ کرے، جو اُسے پہنچی ہے اور اگر ایسا کرنا ضروری ہی سمجھے تو یہ کہے کہ "اے اللہ جب تک میرا زندہ رہنا میرے لئے بہتر ہے ،اُس وقت تک مجھے زندہ رکھ اور مرجانا میرے لئے بہتر ہے تو مجھے موت دے دے"
البتہ اگر ایسے حالات ہوجائیں کہ دین پر چلنا دشوار ہو اور ہر طرف فتنے وفسادات عام ہوں، گناہ اور معصیتیں کھلم کھلا ہورہی ہوں، اس حد تک کہ اس میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہوتو ان گناہوں میں پڑنے کے اندیشہ سے بچنے کی خاطر کوئی موت کی تمنا کرتا ہے تو اس میں حرج نہیں ۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی محبت میں اس سے ملنے کا اس حد تک غلبہ ہوجائے کہ اس سے مغلوب ہوکر اللہ سے ملاقات کے لئے موت کی تمنا کرے تو اس میں بھی گناہ نہیں ہے، مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ اپنی تفسیر معارف القرآن میں لکھتے ہیں:
" احادیث میں بلا ضرورت موت کی تمنا کرنے کی یا دنیاوی مصائب سے گھبرا کر موت کی آرزو کرنے کی ممانعت آئی ہے۔ عمر کا زیادہ ہونا اور توبہ اور اعمال صالحہ کے لئے وقت کا میسر آجانا ایک نعمتِ عظمیٰ اور غنیمتِ کبریٰ ہے،البتہ اگر قلب پر لقاءِخداوندی کا شوق غالب ہو تو پھر موت کی تمنا جائز ہے، مگر شرط یہ ہے کہ فرطِ شوق سے اس درجہ مغلوب الحال ہوجائے کہ دنیاوی منافع اس کی نظروں سے اوجھل ہوجائیں اور غلبۂ شوق میں اس کو اس کا بھی خیال نہ رہے کہ جس قدر عمر زیادہ ہوگی اسی قدر قربِ خداوندی کے اسباب زیادہ حاصل کرسکوں گا اورحضراتِ صحابہ سے جو اس قسم کی آرزو منقول ہے سو وہ اس وقت میں تھی کہ جب اسباب موت کے سامنے آگئے اور دنیا کی زندگی سے مایوسی ہوگئی اس وقت موت کی فرحت اور مسرت میں کچھ کلمات زبان سے نکلے اور یہ وقت محلِ بحث سے خارج ہے۔ تفصیل کے لئے تفسیر عزیزی اور تفسیر مظہری کی مراجعت کی جائے"۔(معارف القراآن 1/241)
خلاصہ یہ ہے کہ دنیاوی مصائب کی وجہ سے موت کی تمنا جائز نہیں اور دینی اور اخروی وجوہات کی بنا پر موت کی تمنا کرنا منع نہیں۔
اس اعتراض کا جواب کہ موت کی دعا مانگنا ممنوع ہے پھر امام بخاری نے موت کی دعا کیوں کی
اس جگہ یہ اشکال ہوتا ہے کہ تمام مورخین نے لکھا ہے کہ امام بخاری نے حالات سے بددل ہو کر اپنی موت کی دعا کی اور یہ کہا: اے خدا یہ زمین اپنی وسعت کے باوجود مجھ پر تنگ ہوگئی ہے مجھے اپنے پاس واپس بلالے حالانکہ موت کی دعامانگنا ممنوع ہے:
اس کا جواب یہ بھی ہےکہ پے در پے صدمات کی وجہ سے امام بخاری کا ذہن بے حد منتشر ہو چکا تھا اوران کو ذہول ہوگیا تھا اور اس وقت یہ یاد نہ رہا کہ موت کی دعا کرنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے اور نسیان کی حالت میں ممنوع کام کیا جائے اس پر مواخذہ نہیں کیا جاتا یا پھر امام بخاری نے اجتہاد کیا کہ دنیاوی مصیبت کی وجہ سے موت کی تمنا کرنا منع ہے لیکن اب ان کے دین پر مصیبت آئی ہوئی ہے ان کو دینی خدمت کرنے سے روکا جا رہا ہے اور درس اور تدریس کی راہ میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں اور اس سے پہلے کہ میرے دین پرکوئی بڑی آفت اور مصیبت آئے تو اے اللہ! مجھے اپنے پاس بلائے امام بخاری فقیہ اور مجتہد تھے انہوں نے موت کی دعا کرتے وقت ضرور اس دعا کی کوئی بہترین توجیہ کی ہوگی۔
لمافی"سنن الترمذي":
"عن أبي عثمان النهدي، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إذا كان أمراؤكم خياركم، وأغنياؤكم سمحاءكم، وأموركم شورى بينكم فظهر الأرض خير لكم من بطنها، وإذا كان أمراؤكم شراركم وأغنياؤكم بخلاءكم، وأموركم إلى نسائكم فبطن الأرض خير لكم من ظهرها»"
(4/529)
وفی"صحيح مسلم":
"عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لا يتمنين أحدكم الموت لضر نزل به، فإن كان لا بد متمنياً فليقل: «اَللّٰهُمَّ أَحْيِنِيْ مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْراً لِّيْ، وَتَوَفَّنِيْ إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْراً لِّيْ. "(2064/4)
وفی"الدرمع الرد":
"(يكره تمنى الموت) لغضب أو ضيق عيش (إلا لخوف الوقوع في معصية) أي فيكره لخوف الدنيا لا الدين؛ لحديث: «فبطن الأرض خير لكم من ظهرها». خلاصة.
(قوله: أي فيكره) بيان لحاصل كلام المصنف، وعبارة الخلاصة: رجل تمنى الموت لضيق عيشه أو غضب من عدوه يكره لقوله عليه الصلاة والسلام : " «لا يتمنى أحدكم الموت لضر نزل به»، وإن كان لتغير زمانه وظهور المعاصي فيه مخافة الوقوع فيها لا بأس به؛ لما روي عن النبي عليه الصلاة والسلام في مثل هذه الصورة، قال: «فبطن الأرض خير لكم من ظهرها» اهـ. أقول: والحديث الأول في صحيح مسلم: «لا يتمنين أحدكم الموت لضر نزل به فإن كان لا بد متمنيا فليقل: اللّٰهم أحيني ما كانت الحياة خيراً لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيراً لي»"(419/6)