جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
موبائل کے کاروبار کےلئے کسی کو دکان کرایہ پر دینا
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ ہماری ایک موبائل مارکیٹ ہے، جس میں ہم نے دکانیں کرائے پر دی ہیں، وہاں پر موبائلوں کی سیل، ریپیرنگ، فلموں اور گانوں کی ڈاؤنلوڈنگ بھی ہوتی ہے، معلوم یہ کرنا ہے کہ ان ان دکانوں کا کرایہ لینا کیسا ہے؟ نیز اگر کرایہ دار فلموں اور گانوں کی ڈاؤنلوڈنگ کریں، تو کیا ہم بھی گنہگار شمار ہونگے؟۔
واضح رہے کہ موبائل کی خرید و فروخت اور مرمت کے کام کیلئے کسی کو دکان کرایہ پر دینا جائز ہے٬ لیکن دکاندار کا موبائل وغیرہ میں گانے٬ مروجہ ڈرامے اور فلمیں وغیرہ ڈاؤن لوڈ کرکے دینا اوراس پر اجرت لینا ناجائز اورحرام ہے٬ اس سے اجتناب لازم ہے٬ البتہ مارکیٹ کے مالکان پر اس کا گناہ نہیں ہوگا٬ تاہم اگر پہلے سے معلوم ہو کہ دکاندار اس طرح کے غیر شرعی امور بھی سرانجام دے گا٬ تو شروع سے ہی اسے دکان کرایہ پر دینے سے معذرت کرلینی چاہیے٬ یا کم از کم اسے ایسے کام کرنے سے اپنی حد تک ممانعت اور برأت کرنی چاہیے۔
واضح رہے کہ اگر کسی دکان یا اسٹال لگانے والے کا اصل کاروبار ہی یہی (گانے اور فلمیں وغیرہ لوڈ کرکے پیسے کمانا) ہواور وہ اسی مقصد کیلئے دکان یا سٹال کرایہ پر لینا چاہے٬ تو اس مقصد کیلئے اسے جگہ کرایہ پر دینا شرعا درست نہیں ہے۔
لمافی"المبسوط السرخسی":
" لابأس بان یواجر المسلم داراً امن الذمی لیسکنہا فان شرب فیہا الخمر اوعبد فیہا الصلیب اوادخل فیہا الخنازیرلم یلحق للمسلم اثم فی شی من ذلک لأنہ لم یؤاجرھا لذلک والمعصیۃ فی فعل المستأجر دون قصد رب الدار فلا اثم علی رب الدار فی ذلك(309/16
وفی"الردالمحتار":
"الإجارۃ علی الحمل وھو لیس بمعصیۃ، ولا سبب لہا، وإنما تحصل المعصیۃ بفعل فاعل مختار"
و فیہ أیضا:
" یجب الأجر بمجرد التسلیم ولا معصیۃ فیہ، وإنما المعصیۃ بفعل المستأجر وہو مختار، فینقطع نسبتۃ عنہ(562/9)
وفی"الھدایة":
"ولایجوز الاستیجار علی الغناء والنوح وکذا سائر الملاھی لانہ استیجار علی المعصیۃ والمعصیۃ لاتستحق بالعقد(306/3)