جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
رخصتی سے پہلے شوہر کا انتقال ہو جانے کی صوت میں مہر اور عدت کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ نکاح کے بعد اوررخصتی سے پہلے لڑکے کا انتقال ہو گیا توان حالات میں حق مہر ادا کرنا اور عدت گزارنا چاہیے یا نہیں؟۔
واضح رہے کہ موت ایک ایسا حادثہ ہے، جس کی وجہ سے مہر متاکد (یعنی شوہر کے ذمہ لازم) ہو جاتا ہے؛ لہذا صورتِ مسئولہ میں جب نکاح کے بعد اوررخصتی یا خلوت صحیحھ سے پہلے شوہر کا انتقال ہو گیا تو بھی بیوہ نکاح کے وقت مقرر کیے گئے مہر کی مستحق ہے ،اسے پورا مہر ادا کرنا لازم ہے
اوراسی طرح جب کسی عورت کا شوہر فوت ہو جائے، تو خواہ رخصتی ، دخول اور خلوت صحیحھ سے پہلے فوت ہوا ہو یا بعد میں بہر صورت اس پر عدت گزارنا لازم ہوتا ہے۔
صورت مسئولہ کے مطابق جب مذکورہ عورت کا خاوند فوت ہوا تو اگرچہ رخصتی نہیں ہوئی پھر بھی اس پر شرعاً عدت وفات (چار ماہ دس دن) گزارنا لازم ہے اور یہ عدت شوہر کی موت کے بعد بلا تاخیر شروع ہو جاتی ہے۔
لمافی"الفتاوى الهندية":
والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء(303/1)
لمافی"القران الکریم":
والذين يتوفون منكم ويذرون أزواجا يتربصن بأنفسهن أربعة أشهر وعشرا(سورة البقرة 234)
وفی"البدائع الصنائع":
وأما الذي يجب أصلا بنفسه فهو عدة الوفاة، وسبب وجوبها الوفاة وأنها الحزن بفوت نعمة النكاح إذ النكاح كان نعمة عظيمة في حقها فإن الزوج كان سبب صيانتها، وعفافها، وإيفائها بالنفقة، والكسوة، والمسكن فوجب عليها العدة إظهارا للحزن بفوت النعمة، وتعريفا لقدرها، وشرط وجوبها النكاح الصحيح فقط فتجب هذه العدة على المتوفى عنها زوجها، سواء كانت مدخولا بها أو غير مدخول بها، وسواء كانت ممن تحيض أو ممن لا تحيض
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الطلاق، فصل في
عدة الأشهر، 4، 418-419: دار الكتب العلمية)