جامعہ اسلامیہ علامہ عبدالغنی ٹاؤن چمن
قبروں کو مسمار کرنے والے شخص کا ساتھ دینے والوں کا حکم
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں!
کہ قبروں کو مسمار و بے پردہ کرنے والے شخص کا کسی بھی طرح سے ساتھ دینے والوں کا کیاحکم ہے؟۔
واضح رہے کہ قبروں کو مسمار کرنا اور ان کی بے حرمتی کرناجائز نہیں اور گناہ کبیرہ ہےاس کام کی جو شخص جس لحاظ سے بھی اعانت کرے وہ بھی اس گناہ کے کام میں برابر کا شریک ہےاس گناہ کاارتکاب کرنے والے اور ان کے معاونین کے ساتھ ان ہی کے موافق برتاؤ کرنا چاہیے، اس کام کے ارتکاب پران لوگوں کو جانی نقصان پہنچانا اور ان کے قتل کی تدبیرکرنا شرعا کسی صورت جائز نہیں۔اور نہ ہی ان کے اموال کو غصب کرنے کی اجازت ہے۔البتہ ایسے لوگوں کو احساس دلانے اور اس شناعت سے روکنے کے لئے لین دین کا ترک اور معاشرتی طور پر وقتی قطع تعلقی کی صورت اختیار کی جاسکتی ہے۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے لئے سزاوتادیبی کاروائی تجویز کرے جس سے عام لوگوں کو عبرت حاصل ہو تاکہ آئندہ ایسے شنیع کام کا اعادہ نہ کیا جائے۔
قبرستان کو بلاوجہ مسمار کرنا گناہ ہے اور گناہ کو ہوتا دیکھ کر ایک مسلمان کو چاہیے کہ مقدور بھر کوشش کر ے اور اس کو ممکنہ حد تک روکا جائے۔اس پرخاموشی اختیار کر لینا جائز نہیں اور یہ اس کی اعانت اور اس کے ساتھ گناہ میں شرکت کے مترادف ہے۔
لمافی"القران الکریم":
وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان [المائدة: 2]
وفی"الصحیح البخاری":
قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (لا يحل دم امرئ مسلم، يشهد أن لا إله إلا الله وأني رسول الله، إلا بإحدى ثلاث: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمفارق لدينه التارك للجماعة.(صحيح البخاري:6/ 2521)
وفی"صحيح مسلم":
عن أبي سعيد رضي الله عنه ،قال:سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان ".(صحيح مسلم:1/ 50 )
وفی"الردالمحتار":
قال العلامۃ ابن عابدین رحمہ اللہ تعالٰی:قال في الحلية: وخصوصا إن كان فيها ميت لم يبل؛ وما يفعله جهلة الحفارين من نبش القبور التي لم تبل أربابها، وإدخال أجانب عليهم فهو من المنكر الظاهر.
(رد المحتار :2/ 233)
وفی"البدائع الصنائع":
قال العلامة الكاساني رحمه الله تعالى: ولو نقب رجلان، ودخل أحدهما فاستخرج المتاع فلما خرج به إلى السكة حملاه جميعا ينظر: إن عرف الداخل منهما بعينه قطع؛ لأنه هو السارق لوجود الأخذ والإخراج منه، ويعزر الخارج؛ لأنه أعانه على المعصية، وهذه معصية ليس فيها حد مقدر فيعزر، وإن لم يعرف الداخل منهما لم يقطع واحد منهما؛ لأن من عليه القطع مجهول، ويعزران: أما الخارج فلما ذكرنا.(بدائع الصنائع:7/ 66)